ایران امریکا معاہدے کا ڈرافٹ فائنل، جنگ بندی اور پابندیاں نرم ہونے کا امکان

واشنگٹن(بولونیوز)ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم معاہدے کے ڈرافٹ کے فائنل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں میں معاہدے کی تکمیل کا باضابطہ اعلان بھی متوقع ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور مجوزہ معاہدے کے فائنل ڈرافٹ میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزاد اور بلا تعطل آمدورفت، اور ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرنے کی شقیں شامل کی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق معاہدے کے تحت فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر عائد ممکنہ پابندیاں ختم کرنے کی یقین دہانی بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران پر عائد اقتصادی اور مالی پابندیوں کو بتدریج نرم کیا جائے گا، جس کے لیے آئندہ مراحل میں مزید مذاکرات ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق آئندہ سات روز کے دوران دیگر اہم معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت جاری رہے گی، جبکہ ممکنہ تنازعات کے حل اور معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ مانیٹرنگ کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی توانائی منڈی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جا رہے تھے۔

اس سے قبل جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور کچھ مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان کے حکام آج تہران کا دورہ کر رہے ہیں، جس سے مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور یہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو تباہ کن کارروائی کی جائے گی اور یورینیم کو ایران سے لے جا کر تباہ کر دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز بغیر کسی پابندی اور فیس کے کھلی رہے۔ ان کے مطابق امریکا کی اجازت کے بغیر نہ کوئی جہاز ایران جا رہا ہے اور نہ ہی وہاں سے آ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *