ڈیٹا سیکیورٹی آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی

اسلام آباد(بولونیوز)اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے ہیڈکوارٹر سیکٹر جی ایلیون فور میں ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں ڈیٹا سیکیورٹی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے اور کسی بھی صورت ذاتی یا ادارہ جاتی ڈیٹا کی غیر قانونی فروخت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈی جی نے انکشاف کیا کہ جنوبی پنجاب سے ایک گینگ کو گرفتار کیا گیا ہے جو پاکستان کے سینیئر عہدوں پر فائز افراد کا ڈیٹا فروخت کرنے میں ملوث تھا۔ ابتدائی طور پر چار افراد پر مشتمل اس گینگ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات جاری ہیں کہ ان ملزمان کو حساس ڈیٹا فراہم کون کر رہا تھا۔

سید خرم علی کے مطابق گرفتار افراد میں دو خواتین اور ان کے شوہر شامل ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف عام شہریوں کا حساس ڈیٹا بلکہ حساس اور خفیہ معلومات بھی فروخت کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض غیر ملکی عناصر خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مالی مفادات کے عوض ملٹری اور سول اداروں کے افسران کا ڈیٹا بھی شیئر کرتے رہے۔

ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے واضح کیا کہ ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود او ٹی پی کوڈ شیئر کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں واٹس ایپ اکاؤنٹس ہیک ہو جاتے ہیں۔ شہریوں کو اس حوالے سے محتاط رہنے اور شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

پریس کانفرنس میں ڈی جی نے بتایا کہ مومنہ اقبال کا کیس لاہور آفس دیکھ رہا ہے اور اسے ایک دو روز میں حل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے صحافیوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی قدر کی جاتی ہے، تاہم جو عناصر ملک کے خلاف وی لاگز کرتے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *