ایرانی صدر اور اطالوی وزیراعظم کی پوپ لیو سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت
تہران(بولونیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پوپ لیو سے متعلق بیان پر عالمی سطح پر ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ اٹلی کی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹرمپ کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے ٹرمپ کے بیان کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوپ لیو کا امن کی بات کرنا اور ہر قسم کی جنگ کی مذمت کرنا ان کے منصب اور مذہبی ذمہ داری کا تقاضا ہے، جس پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ وہ ایرانی قوم کی جانب سے پوپ لیو سے متعلق امریکی صدر کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی رہنماؤں کی اس طرح توہین نہیں کی جانی چاہیے اور ایسے بیانات عالمی امن کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
اسی حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ پر تنقید اور جنگ کے خاتمے کے لیے پوپ لیو کے مؤقف کو سراہتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ “پوپ، آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہ روشنی دکھائی، آپ کے الفاظ بے گناہوں کے قتل پر آواز اٹھانے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔”
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں پوپ لیو نے کہا تھا کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہیں۔ادھر امریکا کی سابق وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی صدر ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی غیر متوازن سوشل میڈیا پوسٹس کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ دل سے افسردہ ہیں کہ امریکا کے پاس اس قدر باعثِ شرم صدر ہے، ٹرمپ مکمل طور پر غیر متوازن ہو چکے ہیں اور اس پر سنجیدہ بات ہونی چاہیے۔


