کشمیری بچوں پر تشدد انسانیت کے ضمیر پر سوالیہ نشان ہے: مشعال ملک
اسلام آباد(بولونیوز) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ اور سماجی کارکن مشعال ملک نے کہا ہے کہ کشمیری بچوں پر تشدد پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔
دنیا بھر میں جارحیت کا شکار معصوم بچوں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں مشعال ملک نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصد جسمانی اور ذہنی تشدد کا شکار بچوں کی تکالیف کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران فلسطین میں اسرائیلی تشدد کے نتیجے میں 21 ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں، جن میں ایک ہزار سے زیادہ شیر خوار بچے شامل ہیں۔
مشعال ملک کے مطابق 44 ہزار سے زائد فلسطینی بچے زخمی ہوئے جبکہ ان میں سے 21 ہزار بچے تاحیات معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی بربریت کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں، مگر ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں نے اسرائیلی اور بھارتی مظالم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، عالمی طاقتوں کی یہ خاموشی دراصل ظالموں کی مدد کے مترادف ہے۔ مشعال ملک نے مزید کہا کہ پیلٹ گنز سے صرف بچوں کی بینائی ہی نہیں چھینی گئی بلکہ ان کے خواب اور مستقبل بھی تاریک کر دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیری بچوں پر جاری تشدد انسانی اقدار، عالمی قوانین اور ضمیرِ انسانی کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے، جس پر عالمی برادری کو فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔


