افغانستان سے حملے ناقابلِ برداشت، بھارت دریائے چناب کا رخ نہیں موڑ سکتا: دفترِ خارجہ
اسلام آباد(بولونیوز) دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں قیامِ امن کے لیے مخلصانہ اور مثبت کردار ادا کر رہا ہے، تاہم افغانستان سے ہونے والے دہشتگرد حملے مزید برداشت نہیں کیے جا سکتے اور بھارت دریائے چناب کے پانی پر یکطرفہ اقدامات کا مجاز نہیں۔
ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے تسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ہے۔ پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والے حملوں پر کوئی بھی ذمہ دار ریاست خاموش نہیں رہ سکتی۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں ہزاروں شہری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا ہے۔
دفتر خارجہ نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گا اور مشرقی القدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔
ترجمان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی طرف موڑنے کی کوششوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ 1978 کے سلال معاہدے اور سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے بلا روک ٹوک استعمال کا حق حاصل ہے اور پاکستان دریائے چناب پر اپنے حقوق کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔ پاکستان کی غذائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
سفارتی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ دنوں میں چین کا کامیاب دورہ کیا جہاں مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے بعد امریکا کا دورہ کیا اور امریکی قیادت سے ملاقاتوں میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار پر گفتگو کی۔ امریکی رہنما مارکو روبیو نے بھی پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ تنازعات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی روابط قائم رکھے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنا ہے۔


