لبنان میں سفید فاسفورس کے استعمال کا انکشاف، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ
بیروت(بولونیوز) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی فوج لبنان میں سفید فاسفورس کا استعمال کر رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق تصاویر اور بصری شواہد کے تفصیلی تجزیے کے بعد اس بات کے واضح ثبوت ملے ہیں کہ جنوبی لبنان کے ایک قصبے پر سفید فاسفورس والے گولوں سے حملہ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سفید فاسفورس (P4) ایک انتہائی آتش گیر کیمیائی مادہ ہے جو آکسیجن کے ساتھ ملتے ہی جلنے لگتا ہے۔ اس کے ذرات اگر انسانی جسم پر لگ جائیں تو شدید نوعیت کے جلنے کے زخم پیدا ہوتے ہیں، جبکہ عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں میں آگ لگنے کا بھی شدید خدشہ ہوتا ہے۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہری آبادی میں سفید فاسفورس کا استعمال غیر قانونی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس واقعے کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ رہائشی علاقوں میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال عام شہریوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
تنظیم نے یاد دلایا کہ اسرائیل اس سے قبل غزہ میں بھی سفید فاسفورس کے استعمال کا مرتکب ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں عالمی قوانین کی ان مبینہ صریح خلاف ورزیوں پر اقوامِ عالم کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔


