غزہ میں ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت، وزارتِ صحت کی تشویشناک وارننگ

غزہ(بولونیوز)غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے کا طبی نظام ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی کے باعث سنگین بحران سے دوچار ہو چکا ہے۔ وزارتِ صحت غزہ کے ہیلتھ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر زاہر الوحیدی کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

زاہر الوحیدی نے انکشاف کیا کہ غزہ میں ادویات کی قلت 52 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ طبی آلات اور لیبارٹری مواد کی کمی تقریباً 71 فیصد ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث طبی عملے کو بیماریوں کی تشخیص اور بنیادی لیبارٹری ٹیسٹ انجام دینے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی ادویات میں 63 فیصد کمی ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں مریض مسلسل علاج سے محروم ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر کینسر کے مریضوں کے لیے صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں کیموتھراپی کی ادویات میں 70 فیصد سے زائد کمی رپورٹ ہوئی ہے، جس سے علاج کا سلسلہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

زاہر الوحیدی نے مزید خبردار کیا کہ اسپتالوں میں آئی سی یو، بے ہوشی (انستھیزیا)، سرجری اور ایمرجنسی ادویات کی شدید قلت ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو طبی لیبارٹریوں کے مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے، جس سے تشخیصی ٹیسٹ معطل ہو سکتے ہیں۔

وزارتِ صحت غزہ نے عالمی برادری اور امدادی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادویات اور طبی سامان کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی نہ کی گئی تو انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *