رام مندر انتظامیہ پر 5 ہزار کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگی کا الزام، سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا
نئی دہلی(بولونیوز)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں تعمیر کیے گئے رام مندر سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر بھارت میں سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ الزامات کے مطابق مندر کی تعمیر اور عطیات کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق رام مندر انتظامیہ پر ہندو عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے عطیات میں لاکھوں ڈالر کی مبینہ بے ضابطگیوں کے انکشافات ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد اسی مقام پر تعمیر کیے گئے مندر سے وابستہ کرپشن کے الزامات نے مندر اور اس کے گرد قائم سیاسی بیانیے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اکھلیش یادو نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے لیے ’قوم پہلے نہیں بلکہ چندہ پہلے‘ ہے۔
ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملک ارجن کھرگے نے بھی رام مندر منصوبے میں تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے تک کی مبینہ کرپشن کا الزام عائد کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان الزامات نے بھارتی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے تاحال ان دعوؤں پر تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔


