اینٹی ریپ قانون پر عملدرآمد کی درخواست پر عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب کر لی
اسلام آباد(بولونیوز )عدالت نے اینٹی ریپ ٹرائل اینڈ انوسٹی گیشن ایکٹ 2021 پر عملدرآمد نہ ہونے کی شکایت پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
درخواست گزار طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات کے باوجود قانون پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ:
جنسی جرائم کے ملزمان کا ڈیٹا بیس تیار نہیں کیا گیا۔
ان کیمرا ٹرائل کا موثر نظام موجود نہیں۔
متاثرین کی قانونی معاونت اور گواہان کے تحفظ کے لیے کوئی فریم ورک تیار نہیں کیا گیا۔
تین کروڑ آبادی والے شہر میں صرف سول اسپتال میں اینٹی ریپ کرائسس سیل موجود ہے اور وہاں بھی خاتون ملازم تعینات نہیں۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں، تاہم حکومت قانون پر مکمل عملدرآمد کے لیے سنجیدہ ہے اور مختلف اضلاع میں کرائسس سیل قائم کیے جا چکے ہیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک تمام تفصیلات پیش کی جائیں اور درخواست کی سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔


