ادارہ ترقیات کراچی میں قیمتی پلاٹوں کا اسکینڈل مزید شدت اختیار کرگیا

کراچی(بولونیوز)ادارہ ترقیات کراچی میں قیمتی پلاٹوں کا اسکینڈل مزید شدت اختیار کرگیا،پانچ پلاٹوں پر شروع ہونے والی انکوائری میں سنگین بدعنوانیوں اورجعلسازیوں کےمبینہ انکشافات کےباوجوداس میں ملوث افسران کیخلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ،محکمہ لینڈکےافسران ڈائریکٹرجنرل کو بھی ماموں بنانے میں کامیاب ہوگئے،پانچ پلاٹوں کی جگہ چار پلاٹ منسوخ کرکے پہلے سے منسوخ پلاٹ کوبھی منسوخی کے لیٹر میں شامل کرکے گنتی پوری کردی گئی ، گلستان جوہر کے پلاٹ نمبرB-70 بلاک6کومبینہ طور پر بچانے کی کوشش،منسوخ کئے جانے والے پلاٹوں کے لیٹرمیں شامل ہی نہیں کیا گیا،مبینہ جعلسازیوں میں ملوث افسران نے ڈی جی کے ڈی اے کو مزید گھیرے میں لے لیا، سینئر افسران نے جعلسازیوں میں ملوث محکمہ لینڈ اور محکمہ ریکوریز کے افسران کیخلاف سخت کارروائی اور انہیں اہم عہدوں سے فوری برطرف کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ادارہ ترقیات کراچی کے ڈائریکٹر جنرل آصف جان صدیقی کی جانب سے ذرائع ابلاغ میں کی گئی نشاندہی کے بعد شروع کی جانے والی انکوائری میں مزید سنسنی خیز انکشافات منظر عام پر آچکے ہیں ،ڈائریکٹر جنرل نے پانچ پلاٹوں جس میں کورنگی ٹائون شپ کے دو پلاٹس جس میں پلاٹ نمبر این75 سیکٹر44-B اور این46 سیکٹر 44-B، اسکیم36 گلستان جوہر کے دو پلاٹس جس میں پلاٹ نمبرB-70 بلاک6،پلاٹ نمبرA-104 بلاک 6 جبکہ فیڈرل بی ایریا کے ایک پلاٹ جس کا نمبرBS-57 بلاک7 ہے مذکورہ پلاٹوں کی مبینہ بوگس ٹرانزیکشن پر تحقیقات کا حکم دیا تھا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری میں مذکورہ پلاٹس کے ساتھ ساتھ دیگر سینکڑوں پلاٹس بھی جعلساز ی سے ٹھکانے لگائے جانے کے انکشافات سامنے آئے تھے جبکہ مذکورہ پانچوں پلاٹوں میں سنگین جعلسازی کا بھی بھانڈا پھوٹ گیا تھا اور اس حوالے سے گذشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے آصف جان صدیقی نے اخبار نویسوں کے سامنے مذکورہ پانچوں پلاٹوں کو منسوخ کئے جانے کی تصدیق کی تھی تاہم اچانک منسوخ کئے جانے والے پلاٹوں کی فہرست میں پلاٹ نمبرB-70 بلاک6 گلستان جوہر کو شامل ہی نہیں کیا گیا،اس سلسلے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ لینڈ کے افسران نے ڈائریکٹر جنرل کو مبینہ طور پر ماموں بناتے ہوئے پلاٹ نمبرBS-57 بلاک 7جس کی منسوخی کا لیٹر27 جنوری کو جاری ہوچکا تھا اس کو دوبارہ دیگر منسوخ کئے جانے والے پلاٹوں کی فہرست میں شامل کرکے گنتی پوری کردی ہے جس سے ڈائریکٹر جنر ل کے ڈی اے لاعلم بتائے جاتے ہیں،تاہم نشاندہی کے بعد مذکورہ پلاٹ نمبرB-70 بلاک6 کے بھی منسوخ کئے جانے کا قوی امکان ہے ،دریں اثناء ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پلاٹوں کی جعلسازی میں ملوث محکمہ لینڈ اور محکمہ ریکوریز کے افسران تاحال اپنے عہدوں پر موجود ہیں اور ان کیخلاف تاحال کسی قسم کی کوئی کارروائی اور شوکاز تک جاری نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث شہری حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے،شہری حلقوں اور ادارے کے سینئر افسران نے ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے سے پلاٹوں کی جعلسازیوں میں ملوث افسران اور ان کے سرپرستوں کیخلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ،سینئر افسران کا کہنا ہے کہ جعلساز ی میں ملوث افسران کیخلاف کوئی کارروائی نہ ہونے کے باعث ان کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *