سال 2025 میں مچھلی کی ایکسپورٹ میں 19 فیصد اضافہ،مجموعی اضافہ 40 فیصد تک پہنچ گیا
کراچی(بولونیوز)پاکستان کی مچھلی اور سمندری خوراک کی ایکسپورٹ میں رواں سال نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل میرین فشریز پاکستان ڈاکٹر منصور علی وسان کے مطابق سال 2025 کے دوران مچھلی کی برآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گزشتہ دو سالوں میں مجموعی ایکسپورٹ تقریباً 40 فیصد بڑھ چکی ہے۔
مالی سال 24-2023 میں پاکستان نے مختلف ممالک کو 406 ملین ڈالر مالیت کی مچھلی اور سمندری خوراک ایکسپورٹ کی، جبکہ 25-2024 میں یہ حجم بڑھ کر 489 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ رواں سال بھی اسی تناسب سے ایکسپورٹ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر منصور وسان کے مطابق امریکا کیلئے مچھلی کی ایکسپورٹ کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ کے میرین میملز ایکٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے بعد پاکستان اب دوبارہ امریکا کو مچھلی ایکسپورٹ کرنے کا اہل ہوگیا ہے۔ یہ معاملہ 2018 سے تعطل کا شکار تھا جو رواں سال حل ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کو جھینگا ایکسپورٹ کرنے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے اور توقع ہے کہ آئندہ سال کے وسط تک پاکستان کو امریکا میں جھینگا برآمد کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
ڈی جی میرین فشریز کے مطابق رواں سال گہرے سمندر میں مچھلی کے شکار کے لائسنس جاری کرنے کا مسئلہ بھی حل کردیا گیا ہے جو کافی عرصے سے زیر التوا تھا۔ اب ڈیپ سی فشنگ لائسنسز کے اجرا کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے برآمدات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے رواں سال نیشنل فشریز اینڈ اکواکلچر پالیسی بھی مرتب کی ہے، جس سے ماہی گیری کے پورے شعبے کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ اس پالیسی میں فشریز سے لے کر ایکواکلچر تک تمام متعلقہ شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔


