ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات، قانونی کارروائی کا آغاز
اسلام آباد(بولونیوز)رکنِ قومی اسمبلی اور ویمن پارلیمنٹری کاکس کی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹے، من گھڑت اور ہتک آمیز الزامات لگانے کے معاملے پر قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق قومی سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے موصول ہونے والی شکایت کی بنیاد پر انکوائری رجسٹر کرتے ہوئے متعلقہ فرد کو نوٹس جاری کر دیا ہے، جس میں اسے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی پر مالی بدعنوانی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے، جن کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔ ان الزامات کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے معاملہ متعلقہ اداروں کے نوٹس میں لایا گیا۔ڈاکٹر سیدہ شاہدہ رحمانی نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا اور کردار کشی نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے، جس کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا کو جھوٹ پھیلانے یا ذاتی حملوں کے لیے استعمال کرنے والوں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔قانونی ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے جھوٹے اور ہتک آمیز مواد کی اشاعت پاکستان کے سائبر کرائم قوانین اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت قابلِ سزا جرم ہے، جس پر متعلقہ ادارے کارروائی کے مکمل اختیارات رکھتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس امر کی واضح مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات اور کردار کشی کے خلاف قانون متحرک ہو چکا ہے اور ذمہ دار عناصر کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔


