بنگلا دیش میں اسٹوڈنٹ لیڈر کے قتل پر بھارت مخالف پُرتشدد مظاہرے
ڈھاکا(بولونیوز)بنگلا دیش میں نوجوان انقلابی اسٹوڈنٹ لیڈر شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک بھر میں بھارت مخالف احتجاج شدت اختیار کر گیا، مظاہرین نے مختلف شہروں میں عوامی لیگ کے دفتر اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، دارالحکومت ڈھاکا میں مشتعل مظاہرین بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے، سرکاری و نجی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور اہم شاہراہیں بند کردیں۔ مختلف مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے شریف عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور اعلان کیا کہ قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رہے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہادی پر حملے کے ذمہ داران کو فوری طور پر عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ذرائع کے مطابق، راجشاہی میں مشتعل افراد نے شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو بھی نذر آتش کردیا، جبکہ پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
صورتحال کشیدہ ہے اور مختلف شہروں میں سیکورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔


