پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں کروڑوں روپے کی خوردبرد، سندھ حکومت کی بڑی کارروائی

کراچی(بولونیوز)پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سندھ میں واٹر سپلائی، ڈرینیج اور واٹر فلٹریشن منصوبوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور کروڑوں روپے کی خوردبرد کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے بعد سکھر کے ایگزیکٹو انجینئر حفیظ اللہ میمن کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کی معطلی کا حکم چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں کرپشن اور فرائض میں غفلت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل سیکریٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے واٹر فلٹریشن پلانٹ روہڑی میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کے غبن کے معاملے پر حفیظ اللہ میمن کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ افسر پر الزام ہے کہ منصوبہ مکمل ہوئے بغیر ٹھیکیدار کو 14 کروڑ 88 لاکھ روپے کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی۔

حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے متعلقہ چیف انجینئر کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔ سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *