بجلی کی پیداوار اور فراہمی پر سنگین سوالات، اربوں کے منصوبے غیر فعال
اسلام آباد(بولونیوز)ملک میں بجلی کی مجموعی طلب اس وقت تقریباً 25 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ مختلف معاہدوں کے تحت بجلی کی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ تک بتائی جاتی ہے، اس کے باوجود ملک کو 4500 میگاواٹ سے زائد بجلی کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق حیران کن طور پر بجلی کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ اب عوام خود شمسی توانائی کے ذریعے پورا کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود لوڈشیڈنگ اور شارٹ فال کا مسئلہ بدستور موجود ہے، جو بجلی کے نظام اور منصوبہ بندی پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔
صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب پہلی بار تربیلا اور منگلا جیسے بڑے پن بجلی منصوبوں سے پیداوار بڑی حد تک بند یا محدود ہو گئی ہے، حالانکہ یہی منصوبے ماضی میں سستی اور مستحکم بجلی کا بڑا ذریعہ رہے ہیں۔
دوسری جانب نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ، جس پر تقریباً 800 ارب روپے خرچ کیے گئے، گزشتہ تین سال سے بند پڑا ہے۔ اس منصوبے کی بندش کی وجوہات اور اس پر پیش رفت کے حوالے سے نہ کوئی واضح جواب سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی کسی سطح پر مؤثر احتساب نظر آتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت شفاف تحقیقات، منصوبہ بندی اور اصلاحات نہ کی گئیں تو بجلی کے بحران پر قابو پانا مزید مشکل ہو جائے گا، جبکہ اربوں روپے کے منصوبے قومی معیشت پر بوجھ بنتے رہیں گے۔


