کراچی کی بڑھتی ہوئی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئی، فوری اقدامات کا مطالبہ
کراچی(بولونیوز)فضائی آلودگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک قرار دی جا رہی ہے، جس کے باعث مختلف بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ارسلان خالد نے کہا ہے کہ شہر کی فضا انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک آلودہ ہو چکی ہے، اور شہری سالانہ اوسطاً 1.86 کلوگرام تک زہریلے ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہر میں نمونیا، سینے کے انفیکشن، مسلسل فلو اور جلدی امراض میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آنکھوں کی بیماریوں کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔
ارسلان خالد کے مطابق صنعتی علاقوں میں ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ سڑکوں پر گرد و غبار اور گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں آلودگی کی بڑی وجوہات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاخیر کا شکار ترقیاتی منصوبے، درختوں کی کٹائی، گرین بیلٹس کی کمی اور کچرا جلانے کا رجحان بھی صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی غفلت کے باعث شہر آلودہ ترین علاقوں میں شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شجرکاری مہم، صاف ایندھن کے استعمال، صنعتی اخراج پر سخت کنٹرول اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری لائی جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ برسوں میں سانس اور دل کے امراض میں مزید خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔


