ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز مسترد، نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت جاری
واشنگٹن(بولونیوز)جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز کو امریکا نے مسترد کر دیا ہے اور اب نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت جاری ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نائب صدر نے بتایا کہ نیو یارک ٹائمز ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز کو پھیلا رہی ہے اور دعویٰ کر رہی ہے کہ امریکا اس پر بات کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے اسے ردی کے ڈبے میں پھینک دیا ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے کچھ عناصر پروپیگنڈے کے لیے غلط دس نکات پیش کر رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ قالیباف نے 15 نکاتی پلان پیش کیا ہے، اور اگر صرف 3 نکات پر اختلاف ہے تو یہ اچھی بات ہے کہ بیشتر معاملات پر اتفاق موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور اسلام آباد میں مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے، تاہم بات چیت میں فریقین کی نیتوں پر اعتماد کا فقدان ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سودے بازی کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
لبنان میں جنگ بندی سے متعلق سوال کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی حکومت نے سمجھا کہ لبنان بھی سیز فائر میں شامل ہو گا، لیکن امریکا نے کبھی یہ نہیں کہا۔ اگر ایران چاہتا ہے کہ معاملہ لبنان کی وجہ سے ٹوٹ جائے تو یہ ان کا انتخاب ہو گا۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ہرمز میں ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے اور تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ ڈیل یہ ہے کہ سیز فائر قائم ہو، بات چیت جاری رہے اور ہرمز کھلے۔ ایرانیوں کو اب اگلا قدم اٹھانا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کر رہے ہیں اور پیغام دیا ہے کہ ایران جتنا کچھ دے گا، امریکا بھی اتنا دے سکتا ہے۔ اس حوالے سے پابندیوں میں نرمی پر بات چیت ممکن ہے کیونکہ امریکا کے پاس لیوریج ہے کہ وہ ایران کو بہت کچھ دے سکتا ہے۔


