منعم ظفر خان کا میڈیا سے گفتگو: “حق دو کراچی تحریک” اب “جینے دو کراچی تحریک” میں تبدیل
کراچی(بولونیوز)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کراچی منعم ظفر خان نے ادارہ نور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حق مانگنے کے جرم میں کارکنان کو جیل بھیجا گیا، لیکن ان کے عزم اور حوصلے کو شکست نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ جیل میں کارکنان نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ منعم ظفر خان نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی پاسداری کرنے والوں پر انسداد دہشت گردی کے مقدمات بنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے۔ ان کے مطابق کراچی کے حق کی بات کرنے والوں پر لاٹھی چارج اور زہریلی آنسو گیس کا استعمال پارٹی کی فسطائی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کے حق کے لیے نکلے، لیکن سندھ حکومت شہری مسائل کے حل کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائمز میں ملوث مجرم آزاد گھوم رہے ہیں اور بچے گٹروں میں گر کر ہلاک ہو رہے ہیں، جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی اپنی ذمہ داری نہیں لے رہی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ حق دو کراچی تحریک اب “جینے دو کراچی تحریک” میں تبدیل ہو چکی ہے۔ گزشتہ روز سحری کے وقت سولجر بازار میں چار منزلہ عمارت سیلنڈر پھٹنے کے سبب گر گئی۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ پرامن احتجاج کی کال دی، یکم فروری کو شاہراہ فیصل اور 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے میں کوئی تشدد نہیں ہوا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی امیر پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر کراچی کے 13 مقامات پر بڑے جلسے منعقد کرے گی اور ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ ہاؤس یا سندھ اسمبلی کے باہر بھی دھرنے دیے جائیں گے


