سندھ ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے آصف اور فاطمہ کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا

کراچی(بولونیوز)سندھ ہائیکورٹ نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے محمد آصف اور فاطمہ کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے فاطمہ کے بھائی ساگر کی طرف سے درج کی گئی اغوا کی ایف آئی آر نمبر 750/2025 کے تحت تھانہ سکھن میں شروع کیے گئے آپریشن کو معطل کر دیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر، ایس آئی او تھانہ سکھن اور ایس ایچ او تھانہ سکھن کو 24 فروری 2026 تک رپورٹ پیش کرنے کا نوٹس جاری کیا۔

دونوں میاں بیوی نے لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ محمد آصف اور فاطمہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، جس پر محمد آصف نے فاطمہ کو مدرسہ جامعتہ اسلامیہ میں مسلمان کروایا اور سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ بعد ازاں، 2 دسمبر 2025 کو دونوں کی شادی کورٹ میرج کے تحت ہوئی۔

ایڈووکیٹ کے مطابق فاطمہ کے گھر والے شادی کے بعد محمد آصف کے خلاف دشمنی پر اُتر آئے اور پولیس کے ساتھ مل کر دونوں کو گرفتار کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھور نے پولیس کو دونوں میاں بیوی کی گرفتاری سے روک دیا اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے سماعت 24 فروری 2026 تک ملتوی کر دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *