ہندوستانی صنعتکار رتن جی ٹاٹا کا انتقال، حقیقی خوشی کی مثال چھوڑی
ممبئی(بولونیوز) ہندوستانی ارب پتی اور صنعتی گروپ ٹاٹا کے سابق چیئرمین رتن جی ٹاٹا کا انتقال ہوگیا۔ رتن جی ٹاٹا کی زندگی میں شادی نہیں ہوئی اور ان کی کھربوں کی مالیت کی پراپرٹی اور کاروبار سب ٹرسٹ کے حوالے کر دی گئی۔
رتن جی ٹاٹا اپنی سادہ زندگی اور خیرات کے لیے مشہور تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی زندگی کے خوشی کے چار مراحل بیان کیے، جن میں آخری مرحلہ سب سے یادگار رہا۔
پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا، لیکن اس سے وہ حقیقی خوشی محسوس نہ کر سکے۔
دوسرا مرحلہ قیمتی اشیاء جمع کرنے کا تھا، لیکن یہ خوشی بھی عارضی نکلی۔
تیسرا مرحلہ بڑے صنعتی منصوبوں اور کاروباری کامیابیوں کا تھا، جہاں ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری ان کے پاس تھی، پھر بھی حقیقی خوشی حاصل نہ ہوئی۔
چوتھا اور آخری مرحلہ وہ تھا جب ایک دوست نے انہیں 200 معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کی درخواست کی۔ رتن جی ٹاٹا نے خود بچوں کو وہیل چیئر دینے گئے اور وہاں انہوں نے بچوں کے چہروں پر حقیقی خوشی دیکھی۔ ایک بچہ ان کی ٹانگ پکڑ کر کہتا ہے کہ وہ ان کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہے تاکہ جنت میں دوبارہ ملاقات پر انہیں پہچان سکے اور شکریہ ادا کرے۔
رتن جی ٹاٹا کی یہ کہانی حقیقی خوشی اور انسانیت کی خدمت کا بہترین درس دیتی ہے، جس نے انہیں دنیا کی دولت کے باوجود ایک منفرد مقام دیا۔


