مچھر کالونی منشیات فروشوں کے نرغے میں،سندھ رینجرز سے فوری کارروائی کی اپیل
کراچی(بولونیوز)کراچی کے علاقے مچھر کالونی، تھانہ ڈاکس کی حدود ایک بار پھر منشیات کے بدترین گڑھ کے طور پر ابھر کر سامنے آ گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر آئس (کرسٹل میتھ) سمیت دیگر مہلک نشہ آور اشیاء کا منظم اور طاقتور نیٹ ورک سرگرم ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ صورتحال اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج دیا جا رہا ہے اور پولیس مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس منشیات نیٹ ورک کی مبینہ ڈوریں خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی، تحصیل رزڑ، محلہ برلور سے ہلائی جا رہی ہیں، جہاں بیٹھ کر کراچی میں موجود کارندوں کے ذریعے پورا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ماما یعقوب، وقاص عرف شوٹر اور حمزہ اس نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق منشیات گاڑیوں کے ذریعے کے پی کے سے کراچی منتقل کی جاتی ہیں، جہاں مچھر کالونی کو باقاعدہ ڈمپنگ اور لین دین کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ یہاں سے یہ زہر منظم انداز میں شہر کے مختلف علاقوں میں پھیلایا جاتا ہے، جبکہ مبینہ سرغنے رقم وصول کرنے کے بعد دوبارہ صوابی میں روپوش ہو جاتے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مچھر کالونی میں بڑے بڑے ڈمپنگ پوائنٹس، کھلے عام کارندوں کی موجودگی اور مسلسل سپلائی نے پوری آبادی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ خوف اور خاموشی کے اس ماحول میں نوجوان نسل تیزی سے نشے کی دلدل میں دھکیلی جا رہی ہے جو ایک بڑے سماجی المیے کا پیش خیمہ بن چکا ہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس اور ضلعی پولیس کے ریکارڈ کے مطابق اس نیٹ ورک سے منسلک مبینہ عناصر کے خلاف درجنوں مقدمات درج ہیں۔ ماضی میں سندھ رینجرز اور اے این ایف کی جانب سے بڑی کارروائیاں بھی کی گئیں، جن میں بھاری مقدار میں منشیات برآمد اور متعدد افراد گرفتار ہوئے، تاہم ہر کارروائی کے بعد یہ نیٹ ورک مزید منظم ہو کر دوبارہ سرگرم ہو جاتا ہے، جو کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
علاقے میں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ کھلے عام یہ چرچے ہیں کہ مبینہ طور پر بعض بااثر حلقوں سے “لائن” ہونے کے باعث منشیات فروشوں کو تحفظ حاصل ہے، جس سے قانون کی بالادستی اور انصاف کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مچھر کالونی کے عوام، سماجی حلقوں اور شہریوں نے ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ساؤتھ، ایس ایس پی کیماڑی اور اینٹی نارکوٹکس فورس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں فوری طور پر مستقل پولیس پکٹ قائم کی جائے، ایس ایس پی کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی خصوصی ٹیم خود موقع پر آ کر شفاف انکوائری کرے اور اس مبینہ آئس مافیا کو جڑ سے اکھاڑ کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل، ریاستی عملداری اور سماجی بقا کا فیصلہ کن لمحہ ہے، جس کے لیے فوری اور فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔


