ہڑتال ختم ہونے کے باوجود کنٹینرز کی نقل و حمل میں مشکلات برقرار
کراچی(بولونیوز)گڈز ٹرانسپورٹرز کی 10 روزہ ہڑتال ختم ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی کراچی کی بندرگاہ کے مختلف کنٹینر ٹرمینلز سے درآمدی و برآمدی کنٹینرز کی نقل و حمل معمول پر نہیں آ سکی۔
کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ وقاص انجم کے مطابق ہڑتال کے دوران بندرگاہ پر رکے ہوئے ہزاروں کنسائمنٹس کے سڑکوں پر آنے سے ٹریفک منیجمنٹ سسٹم کی کمزوریاں سامنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ مال بردار ٹرکوں کی آمد سے نہ صرف بندرگاہ کے اطراف کی سڑکوں پر دباؤ بڑھ گیا بلکہ کیماڑی، گل بائی اور ماڑی پور سمیت بھاری ٹریفک کی گزرگاہوں پر رش خوفناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہڑتال ختم ہونے کے باوجود شہری انتظامیہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
شیخ وقاص انجم نے بتایا کہ مال کی ترسیل کے لیے سب سے بڑے ٹرمینل SAPT تک رسائی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔ ہڑتال ختم ہونے کے بعد نقل و حمل کی غیر معمولی ضرورت کے سبب شہر میں مال بردار ٹرکوں کی کمی پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں فی ٹرک کرایہ 20 سے 30 ہزار سے بڑھ کر 50 سے 60 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں میں قائم مختلف ٹرمینلز سے درآمدی کنٹینرز کی ڈلیوری میں تاخیر سے ٹریڈ سیکٹر کو بھاری ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز کا سامنا ہے، جس سے کاروباری لاگت میں بھی خطیر اضافہ ہوا ہے۔
کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن نے ٹرانسپورٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مفاد عامہ میں طے شدہ ریٹوں پر ٹریڈ سیکٹر کو ٹرکس فراہم کریں تاکہ کنٹینرز کی ترسیل معمول کے مطابق ہو سکے۔


