واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کی نجکاری کے خلاف ہزاروں محنت کشوں کی ریلی،

حیدرآباد(بولونیوز) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) نے حکومت کی جانب سے بجلی کے منافع بخش تقسیم کار اداروں کی ممکنہ نجکاری کے اعلان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نجکاری کے فیصلے سے باز نہ آیا گیا تو ملازمین ملک بھر میں مزید سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

یونین کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی کی قیادت میں لیبر ہال حیدرآباد سے نکالی گئی عظیم الشان ریلی میں ہزاروں حیسکو، این جی سی اور واٹر ونگز کے ملازمین نے شرکت کی۔ شرکاء نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر نجکاری کے خلاف نعرے درج تھے۔ ریلی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی جہاں جلسہ منعقد ہوا۔

عبداللطیف نظامانی نے خطاب میں کہا کہ:

حکومت نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر قومی اثاثوں کی نجکاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

ماضی میں 2012 اور 2017 میں بھی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کی نجکاری کی کوششیں محنت کشوں کی جدوجہد سے ناکام بنائی گئیں۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں قوم کی امانت ہیں، ان کی “بندر بانٹ” کسی صورت قبول نہیں۔

نجکاری سے ادارے تباہ اور ہزاروں ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے، جس کا ملک پہلے ہی متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ:
“حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے، اگر نجکاری واپس نہ لی گئی تو بجلی بند کرنے جیسا سخت قدم اٹھانا بھی پڑ سکتا ہے۔”

مزید کہا گیا کہ حکومت پہلے مرحلے میں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو جبکہ اگلے مرحلے میں حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کی جانب بڑھ رہی ہے۔

یونین رہنماؤں کے مطالبات:

ادارے میں ملازمین کی شدید کمی دور کی جائے، بھرتیاں کھولی جائیں۔

ملازمین کے بچوں کا کوٹہ بحال کیا جائے۔

کنٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو ریگولر کیا جائے۔

جینکوز کے سرپلس ملازمین کو ان کا حق دیا جائے۔

کارکردگی بونس، ہاؤس ایکوزیشن نئی شرح کے مطابق دیا جائے۔

ترقیاں و اپ گریڈیشن نجکاری کمیشن کی شرط سے آزاد کی جائیں۔

انہوں نے زیرو لوڈشیڈنگ کے عمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بھی محنت کشوں کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

ریلی سے یونین کے صوبائی جنرل سیکریٹری اقبال احمد خان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آج واپڈا ملازمین سراپا احتجاج ہیں، جو اتحاد کی مضبوط علامت ہے۔

مقررین نے افسران کو بھی اپیل کی کہ وہ نجکاری کے خلاف اس جدوجہد میں ملازمین کا ساتھ دیں کیونکہ نجکاری کے بعد سب سے زیادہ متاثر خود افسران ہوں گے۔

ریلی کے اختتام پر رہنماؤں نے اعلان کیا کہ نجکاری کی کسی بھی کوشش کے خلاف ملک گیر سخت احتجاج کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *