گل پلازہ آگ میں فائر سیفٹی کی شدید کمی، ریسکیو آپریشن خطرناک قرار

کراچی(بولونیوز) ڈی جی ریسکیو 1122 نے کمیشن کو ابتدائی رپورٹ اور سوالنامے کے جوابات جمع کروا دیے ہیں جس میں گل پلازہ آگ کے واقعے کے دوران ریسکیو آپریشن کی تفصیلات اور فائر سیفٹی میں پائی جانے والی خامیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

جائےوقوعہ پر پہنچنے تک آگ تیسری درجے کی شدت اختیار کر چکی تھی اور عمارت مکمل طور پر شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔غیر مستحکم عمارت کے باعث فائر فائٹرز نے دفاعی حکمت عملی اختیار کی اور قریبی عمارت رمپا پلازہ سے آگ بجھانے کی کارروائی کی۔عمارت میں مناسب فائر ایگزٹ موجود نہیں تھے اور کئی کھڑکیاں اسٹیل اور کنکریٹ سے بند تھیں جس سے ریسکیو آپریشن شدید متاثر ہوا۔

دھوئیں کے شدید اخراج کی وجہ سے اندر اور باہر حدِ نگاہ تقریباً صفر تھی، ریسکیورز نے سیڑھیوں اور متبادل راستوں سے ریسکیو کی کوششیں کیں۔سانس لینے کے آلات استعمال کرنے کے باوجود اندرونی ریسکیو انتہائی خطرناک تھا، اور کچھ افراد کو کھڑکیوں کے ذریعے باہر نکالا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں اسپرنکلر سسٹم، ہائیڈرینٹ اور فائر الارم سمیت بنیادی فائر سیفٹی نظام موجود نہیں تھا۔عمارت میں ایمرجنسی انخلا کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور کئی فائر ایگزٹ بند یا تجاوزات کی وجہ سے ناقابل استعمال تھے۔ہجوم، ٹریفک جام اور جاری تعمیراتی کام ریسکیو کارروائیوں میں رکاوٹ بنے، جبکہ رفاہی اداروں کی گاڑیوں کی موجودگی نے فائر ٹینڈرز کی نقل و حرکت متاثر کی۔

کمرشل عمارتوں میں فائر واٹر ریزروائر، ہائیڈرینٹ اور خودکار اسپرنکلر سسٹم کی تنصیب لازمی کی جائے۔عمارتوں میں تربیت یافتہ عملہ اور ابتدائی آگ بجھانے کے آلات موجود ہوں۔ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے رسائی کے راستے واضح اور کھلے رکھے جائیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 2025 میں آگ لگنے کے 1094 اور 2026 میں اب تک 84 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ریسکیو 1122 نے زور دیا ہے کہ مؤثر فائر سیفٹی اور ہنگامی رسپانس نظام کے بغیر شہری زندگی اور املاک کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *