35 سے 40 ڈگری درجۂ حرارت جنوبی ایشیا میں معمول، یورپ میں قیامت خیز کیوں؟
یورپ(بولونیوز)یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے چند ہی دنوں میں تباہ کن صورتِ حال اختیار کر لی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف 4 سے 5 دن کے دوران 1 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی ہے۔
20 جون سے شروع ہونے والی اس ہیٹ ویو نے یورپ کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جس کے باعث عجائب گھروں، تعلیمی اداروں اور متعدد عوامی مقامات کو قبل از وقت بند کرنا پڑا۔ مختلف علاقوں میں درجۂ حرارت کم از کم 35 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کئی مقامات پر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا۔
اب یہ سوال شدت سے اُٹھ رہا ہے کہ جو درجۂ حرارت پاکستان اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں معمول سمجھا جاتا ہے، وہی گرمی یورپ میں اتنی جان لیوا کیوں ثابت ہو رہی ہے؟
انسانی موافقت
ماہرین کے مطابق انسان جس خطے میں رہتا ہے، اس کا جسم آہستہ آہستہ وہاں کی آب و ہوا کا عادی ہو جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے عوام کا ’تھرمو ریگولیشن‘ نظام زیادہ درجۂ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ یورپی ممالک کی آب و ہوا عموماً ٹھنڈی رہتی ہے۔ اسی لیے وہاں کے لوگوں کا جسم اچانک پڑنے والی شدید گرمی سے مطابقت پیدا نہیں کر سکا۔
انفرااسٹرکچر
جنوبی ایشیا میں عمارتوں اور گھروں کی تعمیر گرم موسم کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، جہاں ہوا کی آمد و رفت اور گرمی کم کرنے کے روایتی طریقے صدیوں سے رائج ہیں۔ اس کے برعکس یورپ میں عمارتیں اس انداز میں بنائی جاتی ہیں کہ وہ گرمی کو محفوظ رکھیں تاکہ سردیوں میں اندرونی حصے گرم رہیں، لیکن یہی خصوصیت گرمیوں میں نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے اور گھروں کے اندر درجۂ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
رات کا درجۂ حرارت
حالیہ گرمی کی لہر کے دوران یورپ میں راتیں بھی غیر معمولی طور پر گرم رہیں، جس کی وجہ سے انسانی جسم کو ٹھنڈا ہونے کا موقع نہیں مل سکا۔ مسلسل دن اور رات کی گرمی بالخصوص بزرگ افراد کی صحت پر شدید منفی اثر ڈالتی ہے۔
نمی کا تناسب
درجۂ حرارت کے ساتھ ہوا میں نمی کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ زیادہ نمی کی صورت میں پسینہ بخارات بن کر نہیں اڑتا، جس سے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔ حالیہ ہیٹ ویو کے دوران یورپ میں نمی کی زیادتی بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی ایک بڑی وجہ بنی۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں اس طرح کی شدید گرمی کی لہریں مزید عام ہو سکتی ہیں، جس کے لیے یورپی ممالک کو فوری طور پر اپنے انفرااسٹرکچر اور صحتِ عامہ کے نظام کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔


