پہلے افغان خلا باز عبدالاحد مومند 67 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

جرمنی(بولونیوز)سابق افغان خلا باز عبدالاحد مومند 67 سال کی عمر میں جرمنی میں انتقال کر گئے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ کچھ عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور بعد ازاں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

عبدالاحد مومند افغانستان کے پہلے اور واحد خلا باز تھے جنہوں نے 1988 میں سوویت یونین کے “میر” خلائی اسٹیشن کا سفر کیا۔ وہ خلا میں جانے والے پہلے افغان مسلمان بھی تھے۔

معلومات کے مطابق اپنے تاریخی مشن کے دوران وہ قرآن پاک اپنے ساتھ لے گئے تھے اور خلائی اسٹیشن میں قرآن کی تلاوت بھی کی گئی تھی، جو ان کے مشن کا ایک نمایاں پہلو سمجھا جاتا ہے۔

مومند 1959 میں افغانستان کے صوبے غزنی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم غزنی اور کابل میں حاصل کی، جبکہ بعد ازاں سوویت یونین میں ہوا بازی کی تربیت بھی حاصل کی۔

وہ 29 اگست 1988 کو اپنے خلائی مشن پر روانہ ہوئے اور 7 ستمبر 1988 کو زمین پر واپس آئے۔ اس مشن کی مدت ابتدا میں آٹھ دن تھی تاہم تکنیکی مسائل کے باعث اسے نو دن تک بڑھایا گیا۔

خلائی مشن کے بعد انہوں نے افغانستان میں مختلف سرکاری اور سائنسی ذمہ داریاں انجام دیں جبکہ 1992 میں خانہ جنگی کے بعد جرمنی منتقل ہو گئے جہاں وہ آخری وقت تک مقیم رہے اور مختلف پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے رہے۔

عبدالاحد مومند کو افغانستان کی تاریخ میں ایک اہم سائنسی اور قومی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *