مہاجرین کے مسائل، سیاسی جماعتوں اور ترقیاتی منصوبوں پر اسمبلی میں سخت تقاریر
کراچی(بولونیوز) سندھ میں مہاجرین کو زمینوں سے بے دخل کیے جانے کے معاملے پر سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ اسمبلی اور سیاسی بیانات میں مختلف جماعتوں پر سخت تنقید کی گئی ہے۔
تقاریر میں کہا گیا کہ مہاجرین کی سیاست اور نمائندگی کے حوالے سے مختلف ادوار میں سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ 1988 کے معاہدے اور بعد ازاں ہونے والی سیاسی پیش رفت پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
بیانات میں یہ بھی کہا گیا کہ لسانیت صرف نام سے نہیں بلکہ سوچ اور عمل سے ظاہر ہوتی ہے، اور ماضی میں ماورائے عدالت اقدامات اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
تقاریر میں 18ویں ترمیم کے دوران تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ بعض سیاسی جماعتوں کے رویے دوہرے ہیں اور مفاہمت کے بجائے کشیدگی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو برابری کے حقوق حاصل ہیں اور بانیانِ پاکستان کی بے حرمتی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اور بعض علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر منصوبے غلط پلاننگ کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔
آخر میں زور دیا گیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود ملک میں باہمی تعاون اور مفاہمت کے ذریعے ہی مسائل کا حل ممکن ہے۔


