فرانس میں لوگ شدید گرمی سے مرنے لگے
پیرس(بولونیوز)برطانیہ سمیت یورپی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، پیر کو درجہ حرارت بلند ترین سطح تک جا پہنچا، فرانس میں گرمی سے 2 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق فرانس ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری مسلسل ہیٹ ویو کا سامنا کر رہا ہے، ملک کا نصف حصہ اس وقت ریڈ الرٹ کی زد میں ہے، جہاں درجہ حرارت جنوب مغربی شہر بورڈو میں 43 ڈگری سینٹی گریڈ اور دارالحکومت پیرس میں 39 ڈگری تک پہنچنے کی توقع ہے۔
فرانسیسی محکمہ موسمیات میٹیو فرانس کے مطابق 1947 سے اب تک ریکارڈ کی گئی 51 ہیٹ ویوز میں سے 2 تہائی سال 2000 کے بعد پیش آئیں، جب کہ ان میں سے تقریباً نصف صرف گزشتہ 15 برسوں میں ریکارڈ کی گئیں۔ سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ بار بار آنے والی شدید گرمی کی لہریں عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) کی واضح علامت ہیں، جو بنیادی طور پر فوسل فیولز کے جلنے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے باعث ہو رہی ہے۔
یورپ کے بڑے حصے پر ہیٹ ویو چھائی رہی اور پیر کے روز متعدد شہروں میں درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، اس دوران فرانس میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے، نیز فرانس میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں یا ان کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کی گئی، متعدد ٹرین سروسز بھی بند کر دی گئیں۔
فرانس ٹی وی کے مطابق مقامی حکام کے مطابق بورڈو کے علاقے میں ہفتے کے اختتام پر 3 معمر افراد (عمر 80 سے 95 سال) ہیٹ ویو سے پیدا ہونے والی صحت کی پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے علاوہ شدید گرمی سے لڑنے کے لیے اتوار سے پیر تک ساحل کے قریب 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ فرانس میں گزشتہ سال ہیٹ ویوز کے دوران ڈوبنے سے ہونے والی اموات میں 172 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیوں کہ شہری گرمی سے بچنے کے لیے پانی کا رخ کرتے ہیں۔


