سپریم کورٹ کا سروس ملازمین کے حق میں اہم فیصلہ، سینارٹی کے اصول کی توثیق
اسلام آباد(بولونیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سروس ملازمین کے سینارٹی سے متعلق ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے سندھ سروس ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ جو ملازمین پہلے سلیکشن کے ذریعے منتخب ہوئے ہیں، وہ بعد میں منتخب ہونے والے ملازمین کے مقابلے میں سینئر شمار ہوں گے۔
یہ مقدمہ سندھ کے کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے لیکچررز کی بین السینیارٹی سے متعلق تھا، جس میں مختلف اوقات میں سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے ذریعے بھرتیوں کے بعد مشترکہ سینارٹی لسٹ پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔
سندھ سروس ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سندھ سول سرونٹس رولز 1975 کے تحت پہلے منتخب ہونے والے ملازم کو بعد میں منتخب ہونے والے پر سینارٹی حاصل ہوگی۔
حکومت سندھ نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم عدالت نے تفصیلی سماعت کے بعد ٹریبونل کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے تمام اپیلیں خارج کر دیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سینارٹی کے تعین میں سلیکشن کی تاریخ اور بیچ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اگر کسی ملازم کی سینارٹی متاثر ہوتی ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے سینارٹی، پروموشن اور سروس رولز سے متعلق معاملات میں ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔


