ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی 4 گھنٹے طویل کھلی کچہری، 165 شکایات کا موقع پر ازالہ
لاہور(بولونیوز) فیصل کامران نے گزشتہ روز مسلسل چار گھنٹے طویل کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس کے دوران شہریوں کی جانب سے مختلف نوعیت کی 165 شکایات پیش کی گئیں اور متعدد معاملات پر فوری احکامات جاری کیے گئے۔
کھلی کچہری میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر نے 27 کروڑ روپے فراڈ کی شکایت کی، جس پر ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی سٹی کو شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔
ایک اوورسیز پاکستانی نے اپنی بیوی پر آشنا کے ساتھ مل کر رقم ہتھیانے اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزامات عائد کیے، جس پر ایس پی اقبال ٹاؤن کو تین دن میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
ایک شہری نے والد کو زہر دے کر قتل کرنے کی شکایت کی، جس پر ایس پی صدر کو اسی روز انکوائری مکمل کر کے قانونی کارروائی کے احکامات دیے گئے۔
تشدد، گھریلو جھگڑوں اور شادی ختم ہونے کی رنجش سے متعلق شکایات پر متعلقہ ایس ایچ اوز کو فوری کارروائی کی ہدایات جاری کی گئیں۔
وراثتی جائیداد کی تقسیم میں جعلسازی سے متعلق خاتون شہری کی شکایت پر ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ جائیداد کی تقسیم پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں، تاہم وکیل سے رابطہ کروانے میں ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
فراڈ، کرایہ داری، چیک ڈس آنر، لڑائی جھگڑوں اور جائیداد پر قبضے سے متعلق شکایات پر مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز کو قانونی کارروائی، نوٹسز اور تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے۔
والدین کی جانب سے بچوں پر قبضہ اور دھمکیوں کی شکایات پر پیرنٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی ہدایت دی گئی۔
خواتین پر تشدد، مزدوری کے دوران کیمیکل سے جھلسنے، مدعیان کو دھمکیاں دینے اور پولیس اہلکاروں کے اختیارات سے تجاوز سے متعلق شکایات پر بھی فوری نوٹس لیا گیا۔ بعض معاملات میں ایس ایچ اوز کو مقدمات درج کرنے اور ذمہ دار اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے احکامات دیے گئے۔
ہوٹل مالک کی شکایت پر ایس ایچ او ریس کورس سے ویڈیو لنک کے ذریعے وضاحت لی گئی جبکہ معاملہ کی انکوائری ایس پی سکیورٹی کے سپرد کر دی گئی۔
پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد اور رقم ہتھیانے کے واقعات پر سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ اوز کو فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اس موقع پر کہا کہ لاہور پولیس شہریوں کو بروقت اور منصفانہ انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔


