اغوا اور زیادتی کیس، رضا ڈار کی گاڑی میں غیر ملکی خواتین کو ایئرپورٹ لے جانے کے شواہد سامنے آ گئے

لاہور(بولونیوز)غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا اور جنسی زیادتی کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ تفتیش کے دوران رضا ڈار کی گاڑی میں غیر ملکی خواتین کو ایئرپورٹ لے جانے کے شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی خواتین کو رضا ڈار کی گاڑی میں ایئرپورٹ کی جانب لے جایا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق غازی روڈ پر تیز رفتاری کے باعث گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا، جس میں سامنے سے آنے والی ایک اور گاڑی سے ٹکر ہوئی۔

غیر ملکی لڑکی اسٹیفنی نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ حادثے کے بعد وہ گاڑی سے باہر نکلے تو دوسری گاڑی میں سوار فیملی نے ون فائیو پر کال کر کے پولیس کو طلب کیا۔ غیر ملکی خاتون کے مطابق پولیس کے موقع پر پہنچنے کے بعد انہوں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

اس سے قبل پولیس نے ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز حاصل کر کے فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔ واقعے کا شکار ہونے والی خواتین نے پولیس افسران کو کیس کی مکمل پیروی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں غیر ملکی خواتین ایمبسی اور آن لائن زوم میٹنگز کے ذریعے عدالتی کارروائی میں حصہ لیں گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جبکہ دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے غیر ملکی خواتین سے متعلق جاری کیس پر تفصیلی مؤقف اختیار کیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ میڈیکل کرانے کے لیے نیدر لینڈ ایمبیسی سے رابطہ کیا گیا، جہاں سے آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنے شہریوں کی رضامندی (consent) کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ ایمبیسی کی ہدایت پر پہلے غیر ملکی خواتین سے بات کی گئی، انہیں قانونی عمل سے آگاہ کیا گیا اور مکمل طور پر مطمئن کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ سدرہ، راحیلہ میڈم اور ایس ایس او آئی کی ایک خاتون افسر مسلسل غیر ملکی خواتین کے ساتھ رہیں۔ ان خواتین پولیس افسران نے متاثرہ خواتین کو پرسکون کیا، جس کے بعد انہوں نے رضامندی ظاہر کی اور میڈیکل کرانے پر آمادہ ہوئیں۔ بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کر کے میڈیکل کروایا گیا۔

فیصل کامران کے مطابق غیر ملکی خواتین کی دو جولائی کی صبح پانچ بجے فلائٹ طے تھی، تاہم روانگی سے قبل مجسٹریٹ کے سامنے بیانات ریکارڈ کرانا قانونی طور پر ضروری تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ریپ وکٹم یا ریپ سروائیور کو عدالت میں پیش کرنا ناگزیر ہوتا ہے، کیونکہ اگر متاثرہ فریق بیانات دیے بغیر ملک چھوڑ دے تو بعد میں بین الاقوامی فورمز یا میڈیا پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم رابطہ نہ ہونے پر ایس ایچ او کو ان کے گھر بھیجا گیا۔ اس دوران معمولی بدمزگی ہوئی، جس پر انہوں نے عدلیہ سے معذرت بھی کی، لیکن اس بات پر زور دیا کہ بیانات کا ریکارڈ ہونا انتہائی ضروری تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی خواتین بغیر بیانات دیے پاکستان سے روانہ ہو جاتیں تو بین الاقوامی میڈیا اور فورمز پر ریاستی اداروں پر سوالات اٹھائے جاتے، اسی لیے تمام اقدامات قانون کے مطابق اور شفاف انداز میں کیے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *