غیر ملکی خواتین کا میڈیکل اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان قانونی طور پر ضروری تھا، فیصل کامران
لاہور(بولونیوز)لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے غیر ملکی خواتین سے متعلق جاری کیس پر تفصیلی مؤقف اختیار کیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ میڈیکل کرانے کے لیے نیدر لینڈ ایمبیسی سے رابطہ کیا گیا، جہاں سے آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنے شہریوں کی رضامندی (consent) کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ ایمبیسی کی ہدایت پر پہلے غیر ملکی خواتین سے بات کی گئی، انہیں قانونی عمل سے آگاہ کیا گیا اور مکمل طور پر مطمئن کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایس پی انویسٹی گیشن کینٹ سدرہ، راحیلہ میڈم اور ایس ایس او آئی کی ایک خاتون افسر مسلسل غیر ملکی خواتین کے ساتھ رہیں۔ ان خواتین پولیس افسران نے متاثرہ خواتین کو پرسکون کیا، جس کے بعد انہوں نے رضامندی ظاہر کی اور میڈیکل کرانے پر آمادہ ہوئیں۔ بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کر کے میڈیکل کروایا گیا۔
فیصل کامران کے مطابق غیر ملکی خواتین کی دو جولائی کی صبح پانچ بجے فلائٹ طے تھی، تاہم روانگی سے قبل مجسٹریٹ کے سامنے بیانات ریکارڈ کرانا قانونی طور پر ضروری تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ریپ وکٹم یا ریپ سروائیور کو عدالت میں پیش کرنا ناگزیر ہوتا ہے، کیونکہ اگر متاثرہ فریق بیانات دیے بغیر ملک چھوڑ دے تو بعد میں بین الاقوامی فورمز یا میڈیا پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹ سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم رابطہ نہ ہونے پر ایس ایچ او کو ان کے گھر بھیجا گیا۔ اس دوران معمولی بدمزگی ہوئی، جس پر انہوں نے عدلیہ سے معذرت بھی کی، لیکن اس بات پر زور دیا کہ بیانات کا ریکارڈ ہونا انتہائی ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر غیر ملکی خواتین بغیر بیانات دیے پاکستان سے روانہ ہو جاتیں تو بین الاقوامی میڈیا اور فورمز پر ریاستی اداروں پر سوالات اٹھائے جاتے، اسی لیے تمام اقدامات قانون کے مطابق اور شفاف انداز میں کیے گئے۔


