ٹرمپ کو دھمکی دینا مہنگا پڑ گیا، ایرانی وفد مذاکرات چھوڑ کر روانہ

جنیوا(بولونیوز)سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔ ایرانی وفد نے مذاکراتی عمل ترک کرتے ہوئے وینیو چھوڑ دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیان پر معافی نہیں مانگتے، ایرانی وفد مذاکرات میں واپس نہیں آئے گا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق وفد نے اپنا مؤقف اختیار کیا ہے کہ دھمکی آمیز زبان اور دباؤ کے تحت کسی قسم کی بات چیت قابلِ قبول نہیں۔ ایرانی وفد کا کہنا ہے کہ باہمی احترام اور سفارتی آداب کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کی اور یورینیم سے متعلق معاہدے پر عملدرآمد نہ کیا تو وہ “ایران سے اس کا ملک چھین لیں گے”۔ اس بیان کے بعد مذاکراتی عمل میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا۔

سفارتی مبصرین کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں جاری یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نہایت اہم تھے، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں فریق کشیدگی کم کر کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ پاتے ہیں یا نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *