پنکی گینگ گرفتار، ساتھیوں کا بھی یہی انجام ہوگا: وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار
کراچی(بولونیوز) ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ انمول عرف “پنکی” کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے نیٹ ورک کے دیگر ساتھیوں کا بھی یہی انجام ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ملزمہ دھڑلے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چیلنج کرتی تھی کہ اسے گرفتار کر کے دکھایا جائے، تاہم اب اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت کے لیے ایک “ٹیسٹ کیس” ہے۔
وزیر داخلہ کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ صرف کراچی میں اس کے تقریباً 800 باقاعدہ گاہک موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اور دیگر وجوہات کی بنا پر ملزمہ کا ٹرائل جیل کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کیس کی شفاف اور مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اس نیٹ ورک سے منشیات خریدنے اور استعمال کرنے والوں میں تعلیمی اداروں کے طلبہ بھی شامل ہیں، تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے جائیں گے تاکہ انہیں معاشرتی بدنامی سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے صوبے میں منشیات اور گٹکے کے بڑھتے ہوئے استعمال کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد میں اس کا استعمال زیادہ ہے۔
وزیر داخلہ نے گٹکا اور ماوا سے متعلق قانون کو کمزور قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر اس کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی سپاری اور چھالیہ کی اسمگلنگ بھی جاری ہے جس پر سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ارکانِ صوبائی اسمبلی کو بھی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی فوری طور پر بند کریں، ورنہ سخت کارروائی ہوگی۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ منشیات فروشوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔


