سندھ حکومت کا لوکل گورنمنٹ میگا پروجیکٹ کو ایک مرتبہ پھر فعال کرنے کا فیصلہ

کراچی(بولونیوز)سندھ حکومت کالوکل گورنمنٹ میگاپروجیکٹ کوفعال کرنےکا فیصلہ،شہرقائد کی ابترصورتحال اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت انجام دہی کیلئےاہم فیصلے کئے جانے لگے،کراچی کے تمام بڑے منصوبے لوکل گورنمنٹ میگا پروجیکٹ کے ذریعے انجام دیئے جائینگے،سندھ حکومت نے کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ میں بھی بڑی تبدیلیوں کی تیاریاں کرلیں،ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کی خالی پوسٹ کوبھی بھرنےکا فیصلہ،شہر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے سینئر افسران کی مدد لئے جانے پر غور شروع کردیا گیا،،محکمہ انجینئرنگ کےایم سی میںڈائریکٹرجنرل کی اضافی ذمہ داری اسپیشل سیکریٹری ٹیکنیکل یا سابق ڈی جی ٹیکنیکل سروسز کے سپرد کی جائے گی،ڈی ڈی اوپاوربھی فنانشل ایڈوائزرسےواپس لیکرڈائریکٹرجنرل ٹیکنیکل سروسز کو منتقل کی جائے گی۔انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نےشہر قائد میں ترقیاتی کاموں کی بروقت انجام دہی اور ابتر صورتحال کی درستگی کیلئے لوکل گورنمنٹ میگا پروجیکٹ کو ایک مرتبہ پھر فعال کرنےکا فیصلہ کرلیا ہےاوراس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ میگا پروجیکٹ کو شہر کی اہم اور بڑی ترقیاتی اسکیمیں حوالےکرنےکا فیصلہ کیاجارہا ہے،واضح رہے کہ اس سے قبل بھی شہر کی بڑی ترقیاتی اسکیمیں لوکل گورنمنٹ میگا پروجیکٹ کے ذریعے ہی انجام دی جاتی تھیں،دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی محکمہ انجینئرنگ میں سنگین بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی بڑھتی شکایات کامحکمہ بلدیات سندھ نےسخت نوٹس لےلیا ہے،ذرائع کا کہنا ہےکہ اس حوالے سے محکمہ انجینئرنگ کو سدھارنے کیلئے محکمےمیں بڑی تبدیلیوں کی تیاریاں کی جارہی ہیں،ذرائع کا کہناہے کہ میئر کراچی کا محکمہ انجینئرنگ کو بغیر ڈائریکٹر جنرل کے چلانے کاتجربہ ناکام ہوگیا ہےاورمحکمےکے افسران کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں،واضح رہے کہ میئر کراچی نے ڈی جی ٹیکنیکل سروسز کی جگہ محکمہ انجینئرنگ میں سینئر ڈائریکٹر کی پوسٹ ایجاد کرکے جنیدا للہ خان کو تعینات کردیا تھا جبکہ ڈی ڈی او پاور جو کہ ڈائریکٹر جنرل کے پاس ہوتےتھےوہ فنانشل ایڈوائزر کو منتقل کروادیئے گئے تھے ،موجودہ صورتحال میں سینئر ڈائریکٹر کے پاس اختیارات نہ ہونے کے باعث ان کو محکمے کے طاقتور انجینئرز اہمیت دینے کو تیار نہیں ہیں جس کے باعث ان کی پوسٹ ایک نمائشی ہوکر رہ گئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر قائد کی ابتر حالت پر ہونے والی تنقید کا سندھ کی حکمراں جماعت نے نوٹس لے لیا ہے جس کے بعد محکمہ بلدیات سندھ بھی متحرک ہوگیا ہے اور شہر کے انفراسٹرکچر کی درستگی کیلئے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں ترقیاتی کاموں کی بہتر انداز میں انجام دہی کیلئے سابق ریٹائرڈ سینئر افسران کی مدد لینے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے جس میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ملیر ایکسپریس وے پروجیکٹ میں تعینات پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو اور کے ڈی اے کے سابق چیف انجینئر طارق رفیق کو ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کیلئے ٹاسک دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ دوسری طرف لوکل گورنمنٹ میگا پروجیکٹ کو ایک مرتبہ پھر فعال کرنے اور شہر کے تمام بڑے منصوبے میگا پروجیکٹ لوکل گورنمنٹ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا جارہا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ انجینئرنگ کے ایم سی میں ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کی اضافی ذمہ داری اسپیشل سیکریٹری ٹیکنیکل اظہر حسین شاہ یا سابق ڈی جی طارق مغل کے سپرد کئے جانے کا امکان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *