ڈاکٹر مہوش کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت، ملزمان کو فوری سزا دینے کا مطالبہ
کراچی(بولونیوز) ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے ڈاکٹر مہوش کے بہیمانہ قتل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور خواتین کے تحفظ کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے مطابق ڈاکٹر مہوش کو محض اس بات پر سات گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک مرد اٹینڈنٹ سے مؤدبانہ درخواست کی تھی کہ چونکہ یہ خواتین کے چیک اپ کا ایریا ہے، اس لیے وہ باہر مردوں کی انتظار گاہ میں اپنی مریضہ کا انتظار کریں۔ معمولی تکرار کے بعد ملزم نے راستہ روک کر ڈاکٹر مہوش پر فائرنگ کر دی، جو نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک بے گناہ انسان کی جان لینے کا المیہ ہے بلکہ ایک پیشہ ور خاتون ڈاکٹر اور مجموعی طور پر طبی عملے کے تحفظ پر بھی سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
مزید کہا گیا کہ ہسپتالوں میں طبی عملے کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی ایکٹ کو فوری اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور ڈاکٹرز و طبی عملہ بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر سکے۔


