سپریم کورٹ میں ریمارکس، ”جیل میں آنکھ کا علاج بھی نہیں، دل کا علاج کیسے کریں گے”؟

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)میں سپریم کورٹ آف پاکستان کےجج جسٹس عقیل عباسی نےقتل کے مجرم دلاور خان کی میڈیکل گراؤنڈ پر ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران کہا:
“جیل میں تو آپ کے پاس آنکھ تک کا علاج نہیں، دل کا علاج کیا کریں گے؟” — یہ ریمارکس وکیل کی جانب سے مؤقف پیش کیے جانے کے بعد آئے کہ جیل میں صرف معمولی ادویات دستیاب ہیں اور دل کے عارضے کا مناسب علاج ممکن نہیں۔

عدالت نے ملزم کے علاج کے لیے پشاور کارڈیالوجی کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا اور 9 مارچ تک رپورٹ طلب کر لی۔

یہ ریمارکس اس بحث میں دئیے گئے کہ جیل میں طبی سہولیات محدود ہیں اور سنگین بیماریوں کے مناسب علاج کا امکان نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *