گل پلازہ سانحہ، انسانیت کی آزمائش اور حکمرانوں کی خاموشی

کراچی(بولونیوز)گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں انسان کی جان کی قیمت محض چند کاغذی اعلانات اور امدادی رقوم تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ آگ کسی جانور کی نہیں بلکہ انسانوں کی بربریت، غفلت اور بے حسی کا نتیجہ تھی، جس نے زندہ انسانوں کو لمحوں میں جلی ہوئی لاشوں اور راکھ میں تبدیل کر دیا۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے انسانوں کے جسموں کو اس حد تک جلا دیا کہ گوشت ہڈیوں سے الگ ہو گیا، پہچان مٹ گئی، اور کئی خاندان آج بھی اپنے پیاروں کے ایک ایک ٹکڑے کی تلاش میں دربدر ہیں۔ یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے، جس نے پورے شہر کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔

یہ سانحہ سوالیہ نشان ہے ان اداروں پر جو فائر سیفٹی، عمارتوں کی منظوری اور حفاظتی اقدامات کے ذمہ دار ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنے بڑے حادثے کے باوجود نہ کوئی عملی کارروائی نظر آ رہی ہے اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف واضح ایکشن۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی لگتا ہے کہ چند امدادی رقوم دے کر ضمیر خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سچائی کو خاموش کروا دیا جائے۔

گل پلازہ جل کر راکھ ہو چکا ہے، کاروبار ختم ہو گئے، خاندان اجڑ گئے، مائیں اپنے بیٹوں کو، بچے اپنے باپ کو اور بیویاں اپنے سہارے کو کھو چکی ہیں، مگر حکمرانوں کی بے حسی آج بھی ویسی ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جان کی قیمت واقعی صرف پیسہ ہے؟ کیا اس شہر میں کوئی ایسا نظام نہیں جو آئندہ ایسے سانحات کو روک سکے؟

ہم اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔

مگر دعا کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی ضروری ہے کہ اس سانحے کی شفاف تحقیقات ہوں، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، اور آئندہ کسی اور گل پلازہ کو انسانوں کی قبر بننے سے بچایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *