ارتھ ڈے : کراچی کے مینگرووز کے تحفظ اور ماحولیاتی خطرات پر تشویش کا اظہار
کراچی(بولونیوز)آغا خان یونیورسٹی میں میڈیاراؤنڈ ٹیبل میں کراچی کےمینگرووزکےتحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ارتھ ڈے 2026 کے حوالے سے آغا خان یونیورسٹی نے میڈیا راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا، جس میں صحافیوں، ماحولیاتی ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔اس اجلاس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی کے ساحلی ماحولیاتی نظام پر بڑھتے ہوئے خطرات، خصوصاً کراچی کے مینگروو جنگلات کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کرنا تھا۔
اس نشست کے دوران “A Forest in Peril” نامی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جسے ماہرِ تعمیرات اور ماحولیاتی کارکن طارق الیگزینڈر قیصر نے تیار کیا ہے۔یہ فلم بنڈل جزیرے کے مینگروو ماحولیاتی نظام کی کمزوری اور مضبوطی دونوں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ یہ جنگلات ساحلی کٹاؤ، سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح اور شدید موسمی حالات کے خلاف ایک قدرتی دفاع کا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ دستاویزی فلم “Voices from the Roof of the World (VRW)” سیریز کا حصہ ہے جو تین سیزنز پر مشتمل ایک عالمی سطح پر معروف پروجیکٹ ہے۔ اس سیریز کو آغا خان یونیورسٹی کی حمایت حاصل ہے اور اس کا مقصد نازک ماحولیاتی نظاموں سے جڑی کہانیوں کو اجاگر کرنا اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کمیونٹیز کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانا ہے۔
طارق الیگزینڈر قیصر نے کہا ” مینگرووز کا خاتمہ صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے، یہ ماحولیاتی نظام کمیونٹیز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، روزگار کے ذرائع کو برقرار رکھتے ہیں اور ماحولیاتی توازن قائم رکھتے ہیں۔ ان کی تباہی انسان اور فطرت دونوں کو بڑے خطرات سے دوچار کر دیتی ہے۔“
مینگرووز دنیا کے سب سے قیمتی مگر خطرے سے دوچار ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں یہ ساحلی علاقوں کے لیے ایک اہم حفاظتی دیوار کا کردار ادا کرتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو سہارا دیتے ہیں اور مقامی آبادی کے روزگار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی اور بے قابو شہری پھیلاؤ جیسے عوامل ان کے وجود کے لیے خطرہ بن رہے ہیں جس سے طویل مدتی ماحولیاتی اور سماجی و معاشی اثرات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
یہ دستاویزی فلم ایک طویل المدتی بیانیے کے ذریعے ان نازک ماحولیات کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں کو اجاگر کرتی ہے، اور ان کمیونٹیز کی حقیقی زندگی کی جھلک بھی پیش کرتی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا براہِ راست سامنا کر رہی ہیں۔ فلم کی نمائش کے بعد ہدایتکار کے ساتھ ایک مکالمہ بھی ہوا جس میں میڈیا نمائندگان کو ساحلی علاقوں پر ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
VRW کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور آٹھ بار ایمی ایوارڈ یافتہ اینڈریو ٹکاش نے کہا” میں طارق الیگزینڈر قیصر کی اس کاوش کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جس کے ذریعے انہوں نے کراچی کے نسبتاً کم معروف مینگروو جنگلات کی خوبصورتی اور اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کئی سالوں پر محیط جدوجہد VRW سیریز کی بہترین روایت کی عکاسی کرتی ہے۔ “
دنیا بھر میں موسمیاتی چیلنجز میں اضافے کے پیش نظر ایسے اقدامات جن میں میڈیا اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے، باخبر عوامی مکالمے کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ تقریب یومِ ارض کے موقع پر ماحولیاتی پائیداری اور لچک (Resilience) کے حوالے سے گفتگو کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ اقدام اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ بصری کہانی سنانے (Visual Storytelling) کا کردار کس طرح سائنس، پالیسی اور عوامی شعور کے درمیان فاصلے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
VRW جیسے اقدامات کے ذریعے، آغا خان یونیورسٹی موسمیاتی آگاہی کو فروغ دینے، مکالمے کو تقویت دینے اور علم کے تبادلے کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے تاکہ ہمارے دور کے ایک اہم ترین چیلنج کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
VRW آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے مختلف اداروں کا ایک مشترکہ اقدام ہے، جن میں آغا خان یونیورسٹی، آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ، آغا خان فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا شامل ہیں۔ یہ منصوبہ راس بیٹی، جینابائی حسین علی شریف فیملی، سٹکا فاؤنڈیشن، گلشن قاسم علی جیوا فیملی اور پرنس صدرالدین آغا خان فنڈ برائے ماحولیات کی فراخدلانہ معاونت سے ممکن بنایا گیا-


