سانحہ بوہری بازار، شہرِ قائد کی تاریخ کا ایک المناک باب

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سانحہ بوہری بازار شہر قائد کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ ہے، جسے ملکی تاریخ کے بڑے بم دھماکوں میں سے پہلا دھماکا سمجھا جاتا ہے۔یہ دھماکہ کراچی کے قدیم اور مصروف ترین کاروباری علاقے صدر میں واقع بوہری بازار میں کیا گیا تھا، اس مصروف بازار میں ضروریات زندگی کی تقریباً ہر چیز مناسب دام میں مل جاتی ہیں، یہاں پانچ ہزار سے زائد دکانیں ہیں جن کے اوپر کئی منزلہ رہائشی عمارتیں ہیں۔

اس بازار میں 14 جولائی 1987 کو ملک کی تاریخ میں پہلا خوفناک دھماکہ ہوا تھا بوہری بازار میں شام کے وقت لوگ شاپنگ میں مصروف تھے کہ 6 بج کر 20 منٹ پر اچانک زوردار دھماکا ہوا۔ یہ دن ایک ایسے سانحے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے شہر قائد کی رونقوں کو اندھیروں میں بدل دیا۔ جہاں زندگی اپنے عروج پر تھی کہ اچانک قیامت برپا ہوگئی۔

یہ دھماکہ بازار میں کھڑی گاڑیوں کے اندر نصب 2 ٹائم بم پھٹنے سے ہوا تھا، دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اردگرد کی دکانیں، لوگ اور گاڑیاں اس کی لپیٹ میں آگئے۔ جس کے نتیجے میں 90 لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 100 سے زائد افراد اس دلخراش واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔

اس حوالے سے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ پہلے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا، ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی تھی چاروں جانب لاشیں، زخمی لوگ اور خون ہی خون نظر آ رہا تھا۔لوگ ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ تقریباً 35 منٹ بعد دوسرا دھماکہ ہوا، جس نے تباہی کو مزید بڑھا دیا۔ اس وقت بہت سے افراد پہلے دھماکے کی جگہ دیکھنے کے لیے جمع تھے، جو دوسرے حملے کا نشانہ بن گئے۔

اس کو بدقسمتی کہا جائے یا روایتی بے حسی کہ اس وقت زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد نہ مل سکی، ایمبولینسز بروقت نہ پہنچ سکیں اور لوگ رکشوں، ٹیکسیوں اور نجی گاڑیوں میں زخمیوں کو اسپتال منتقل کرتے رہے۔

دوسری جانب شہر کے سرکاری اسپتالوں میں بھی صورتحال انتہائی خراب تھی، بیڈز کی کمی، ڈاکٹروں و عملے کی قلت اور ادویات کے فقدان کا بھی سامنا تھا جس کے سبب بہت سے زخمی صرف اس لیے جانبر نہ ہوسکے کہ انہیں بروقت علاج کی سہولیات نہ مل سکیں۔

عینی شاہد کے مطابق مردہ خانے میں صرف 10 سے 15 لاشوں کی گنجائش تھی، مگر ہم نے وہاں تقریباً 90 لاشیں دیکھیں۔ان دھماکوں میں تقریباً 90 افراد جاں بحق اور 250 سے زائد زخمی ہوئے۔ کئی گھروں سے ایک نہیں بلکہ دو دو جنازے اٹھے، کسی کا باپ، کسی کا بچہ، تو کہیں ایک نوبیاہتا جوڑا اس سانحے کا شکار ہوگیا۔ سوگ میں کراچی تین دن تک بند رہا اور ہر طرف خوف، غم اور بے بسی کا راج تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *