طوفانی بارشوں سے 23 سے زائد قیمتی جانوں کے ضائع ہونےپرافسوس کا اظہارکرتےہیں
کراچی(بولونیوز)انصاف لائرزفورم کراچی ڈویژن کےرہنما و معروف قانون دان ایڈوکیٹ حسنین علی چوہان نے گزشتہ رات کراچی میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے نتیجے میں 23 سے زائد قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور 250 سے زائد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ کسی قدرتی آفت سے زیادہ حکومتی نااہلی، غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پیشگی وارننگ جاری کیے جانے کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کی جانب سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث شہر شدید تباہی کا شکار ہوا۔
ایڈوکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ 100 سے زائد بجلی کے فیڈرز ٹرپ ہونے کے باعث کراچی، جو کہ روشنیوں کا شہر کہلاتا ہے، مکمل اندھیروں میں ڈوب گیا، جبکہ نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد علاقے تاحال زیرِ آب ہیں اور نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، آمد و رفت بری طرح متاثر ہے، جبکہ ریسکیو اور ریلیف کا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے نہ تو بروقت اقدامات کیے گئے اور نہ ہی بعد ازاں صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی شہر میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری، انفراسٹرکچر کی مرمت اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہیں گے تو ایسے المناک واقعات کا سلسلہ جاری رہے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی۔


