جماعت اسلامی کے امیر منعم ظفر خان کی نیوز کانفرنس، سندھ حکومت پر شدید تنقید
کراچی(بولونیوز)امیر جماعت اسلامی کراچی، منعم ظفر خان نے آج ایک نیوز کانفرنس میں سندھ حکومت اور کراچی کے مسائل پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے قیام کی 79ویں شب ہے اور پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے، لیکن جن مقاصد کے لیے ملک حاصل کیا گیا وہ مکمل نہیں ہوئے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ سندھ اور کراچی میں گذشتہ اٹھارہ سال میں عوام پر ظلم و جبر مسلط کیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو کی جانب سے میئر کی کارکردگی پر خوشی کے باوجود شہر میں پانی کی قلت ہے، بچے ڈمپر اور ٹرالروں کی زد میں آ کر مر رہے ہیں، اور شہریوں کے حقوق کی پامالی جاری ہے۔
انہوں نے کراچی میں جاری منصوبوں پر بھی سوال اٹھائے، جن میں ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ، سیف سٹی، کریم آباد انڈرپاس اور دیگر بنیادی ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود پانی کے منصوبے مکمل نہیں ہوئے اور انڈرپاس کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا گیا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی میں نو ہزار چار سو سے زائد اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہوئیں، 15 شہری موبائل چھیننے کی وارداتوں میں جاں بحق ہوئے، اور گذشتہ ستر دنوں میں ڈمپر و ٹرالروں سے ہلاکتیں بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے حقوق کی بحالی کے لیے جماعت اسلامی عید کے بعد تحریک عدم اعتماد اور میگا سٹی گورنمنٹ کے لیے کام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام اداروں پر قبضہ کر لیا گیا اور وہ عوام کو آگہی دے رہے ہیں تاکہ ظلم و جبر کے ماحول میں عوام چین سے نہ بیٹھیں۔
منعم ظفر خان نے نئے گورنر سندھ کو مبارکباد دی اور بتایا کہ کراچی میں بیس ہزار نوجوان بنو قائل پروگرام کے تحت آئی ٹی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔


