امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے تناؤ کے دوران عالمی ردعمل
واشنگٹن(بولونیوز)امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے ساتھ تنازع کے دوران فوجی اخراجات میں اضافے پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینڈرز نے کہا کہ پینٹاگون کو پہلے ہی دفاع کے لیے 1 ٹریلین ڈالر مختص کیے جا چکے ہیں، لیکن صدر ٹرمپ اب ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے لیے 500 بلین ڈالر اور مزید فنڈز چاہتے ہیں۔
سینڈرز نے کہا، “یہ جنگ کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی تھی۔ ہم مزید فنڈنگ کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا پیسہ جنگوں پر نہیں، بلکہ امریکی عوام پر خرچ ہونا چاہیے۔”
دوسری جانب ایران نے امریکی تنصیبات اور اسرائیل پر حملے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تہران میں ایرانی فوجی حکام نے اعلان کیا کہ آنے والے دنوں میں حملے تیز ہوں گے۔
امریکہ اضافی دفاعی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق امریکا مبینہ طور پر مشرق وسطیٰ میں دفاعی مضبوطی کے لیے پیٹریاٹ میزائل جنوبی کوریا سے منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔
ادھر فضائی آمد و رفت میں بھی اثرات دیکھنے کو ملے ہیں۔ اتحاد ایئرویز نے ابوظہبی سے محدود تجارتی پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں اور مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایئر لائن سے براہ راست رابطہ کیے بغیر ہوائی اڈے پر نہ جائیں۔
یہ صورتحال خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور عالمی سطح پر دفاعی تیاریوں کو ظاہر کرتی ہے۔


