ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی وزیرِ خارجہ کے بیان کی تردید کر دی

واشنگٹن(بولونیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل نے نہیں دھکیلا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے سے متعلق کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو وہ ان کا اپنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر کچھ ہوا بھی ہے تو وہ یہ کہ میں نے خود اسرائیل کا ہاتھ ایران پر حملے کے لیے آگے بڑھایا ہے‘‘۔

اس سے قبل وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے جا رہا تھا اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا، اسی لیے امریکا نے پیشگی کارروائی کی۔

مارکو روبیو کے اس بیان پر امریکا کے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس جواکھم کاسترو نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ خارجہ نے خود یہ تسلیم کر لیا ہے کہ امریکا کو اسرائیل نے ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلا۔

دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران جنگ میں پہل کرنے کا خواہاں نہیں تھا اور ایران نے گزشتہ تین سو برسوں کی طرح اب بھی کسی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ کے متضاد بیانات نے امریکا میں حکومتی پالیسی، فیصلہ سازی اور ایران اسرائیل کشیدگی کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ یہ معاملہ امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *