مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش میں اضافہ
سرینگر(بولونیوز)مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کارکنوں کا کہنا ہے کہ 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت کشمیریوں کے حق خودارادیت کی آواز دبانے کے لیے سخت قوانین اور جابرانہ پالیسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس عرصے کے دوران سینکڑوں کشمیری جاں بحق، جبکہ ہزاروں زخمی اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق وادی میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز اور تلاشی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں، جس سے شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں فوجی موجودگی میں اضافے کے باعث بنیادی آزادیوں پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، جبکہ سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو بھی ہراساں کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
کارکنوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔


