خواتین کی یونیورسٹی بلوچستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے، گورنر بلوچستان
کوئٹہ(بولونیوز) جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی صوبہ بلوچستان میں روشنی کا مینار بن کر ابھر رہی ہے۔ یہ ادارہ محض ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ نصف آبادی کے خوابوں، امنگوں اور بلند عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی، تعلیمی معیار اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ بحیثیت گورنر معیاری تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں کی فراہمی پر توجہ محض ایک حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک سچا وعدہ ہے، تاکہ ہر وہ لڑکی جو یونیورسٹی میں داخل ہو، تعلیم مکمل کر کے اپنی قسمت کی معمار بن سکے۔ انہوں نے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم پر زور دیا کہ کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ اسکلز ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائے، تاکہ طالبات معاشی اور سماجی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا راتوں رات ممکن نہیں تھا بلکہ یہ دو سالہ مسلسل محنت، دانشمندانہ منصوبہ بندی، اجتماعی سوچ اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیمی ماحول بہتر ہو رہا ہے بلکہ اس کی رینکنگ اور اسکورنگ میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو باعثِ اطمینان ہے۔
گورنر بلوچستان نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کی ہر گریجویٹ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے صوبے کے لیے فخر کی علامت ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو وہ معاشی اور سماجی انقلاب کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں کیونکہ تعلیم وہ روشنی ہے جو پورے معاشرے کو منور کرتی ہے۔


