ایران نے امریکا سے پیغامات کا تبادلہ روک دیا، آبنائے ہرمز بند کرنے اور دیگر محاذ فعال کرنے کا دعویٰ
تہران(بولونیوز)ایران نے احتجاجاً امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حکام نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا کوئی امکان نہیں اور اسرائیل و اس کے حامیوں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق اب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ باب المندب سمیت دیگر تمام محاذ فعال کرنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ ایٹمی پروگرام سے متعلق امریکا سے کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم اور انقلاب کے راستے میں جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہر مشکل کا مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ “طاقت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھیں گے یا شہید ہو جائیں گے، دونوں صورتوں میں کامیابی ہماری ہی ہے۔”
صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا کہ ان کی جان شہید رہبر کی جان سے زیادہ قیمتی نہیں اور اگر ہم میدان میں ایماندار رہے تو اللہ کی مدد ضرور شاملِ حال ہوگی۔


