عید قربان پر جانور,منڈی,ٹھیکہ،ہر سطع پر رشوت,کمیشن کا گھناونا کاروبار عروج پر

کراچی(بولونیوز) بلدیہ عظمی کراچی میں بدعنوانی کا راج،بکرا منڈی پر اداروں کے مابین سرد جنگ جاری ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ملکیت بکرا منڈیوں پر قبضہ کی جنگ میں ٹاون چیئرمین، ارکان اسمبلی، ضلعی انتظامیہ کے علاوہ حکمران جماعت کے بعض ارکان سرگرم عمل ہیں۔ لوٹ کھسوٹ او ر ایڈوانس منڈی کی قیمت لگائی جارہی ہے، یہ سب گلبرگ ٹاون کے 17 گریڈ کے جونیئر افسر افتخار احمد کی نگرانی میں جاری ہے،جو گریڈ 19 کے عہدے پر تعیینات ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وٹرنری کے سینئر ڈائریکٹر میونسپل کمشنر کے پاس 20 سے 30 لاکھ روپے لیکر پہنچ گئے تھے جو کو مبینہ طور پر میونسپل کمشنر نے واپس کی ہے۔بدعنوانی قربانی کے جانوروں سے نہ کریں, بکرا منڈی پر قبضے کے لیئے بااثرشخصیات شامل ہیں۔ مبینہ طور پر محکمہ وٹرنری نے 11 منڈیوں کی فہرست پیش کی ہے جن میں 9 کو حتمی بنایا جارہا ہے۔ لیاری اور کیماڑی کی دو منڈیوں کی نگرانی رکن صوبائی اسمبلی لیاقت آسکانی کررہے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ وٹرنری نے کراچی میں بکرا منڈی لگانے کی فہرست کمشنر کراچی کو ارسال کردی ہے۔ فہرست میں 11 منڈیوں کے لیئے سات اضلاع میں نام ظاہر کیئے گئے ہیں جن میں دو منڈیوں کی براہ راست لیاقت آسکانی رکن صوبائی اسمبلی اور ایک کی رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل نگرانی کررہے ہیں۔ ملک پلانٹ گلشن اقبال پر بلدیہ عظمیٰ کراچی نے این او سی کے نام پر 50 لاکھ روپے وصول کرنے کی اطلاعات ہیں۔ریلوے گراؤنڈ نیشنل ہسپتال کے نزدیک اور ایک عسکری ادارہ نے سی او ڈی پر لگانے کی اجازت یا این اوسی کی درخواست کی ہے جبکہ کمشنر کراچی کی نگرانی میں لگنے والی بکرا منڈی کی تعداد بھی ایک درجن سے زائد بتائی جاتی ہے۔ بھینس کالونی کے بھوسہ منڈی پر لگنے والے منڈی بھی بلدیہ عظمی کراچی سے چھین لی گئی ہے، جس کی صرف این او سی پر 50 لاکھ روپے لینے کی تصدیق کی جارہی ہے۔ آسو گوٹھ، چاکیواڑہ،اورنگی ٹاون , میرا ناکہ کی منڈی بھی موجود نہیں۔ ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کی نگرانی مین سب سے بڑی بکرا منڈی نادرن بائی پاس پر لگ چکی ہے اس کے طارق تنولی ایڈمنسٹڑیٹر بکرامنڈی اور ٹھیکیدار نعیم اختر،،Kmcنے میونسپل سروسز ٹیکس تمام بکرا منڈیوں پر نافذ کر دیا گیا ہے، یہ ٹیکس منڈی سے واپسی پر شہریوں سے وصول کیا جائے گا۔ یہ ٹھیکہ بلدیہ عظمی کراچی کے پارکس کا ملازم رضوان کو 30 لاکھ روپے میں دیا گیا ہے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء سیکشن (1)96اور 103( 1,2)بلدیہ عظمیٰ کراچی، عیدالاضحیٰ کے دوران بکرا منڈی پر گائے،بیل، بچھڑا، بھینس، اونٹ وغیرہ کے ایک ہزار روپے فی جانور اور بکرا، بکری، دنبہ وغیرہ پر فی جانور 500 روپے ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ ایکٹ میں یہ ٹیکس بالترتیب 500ںاور 300 روپے نافذ کیا گیا تھا تاہم سپرہائی وے پر لگنے والی منڈی سے میونسپل سروسز ٹیکس کے نام پر 50 لاکھ روپے وصول کیئے اور ڈھائی کروڑ روپے الگ وصول کیئے گئے ہیں۔ سرجانی ٹاون کے گراونڈ پر لگنے والی منڈی سے بھی اجازت نامہ کی مد 30 لاکھ روپے وصول کر چکے ہیں۔ محکمہ وٹرنری کے ذرائع کے مطابق ضلع وسطی میں اتوار بازار گراونڈ 11-D سے ڈھائی کروڑ روپے فراز احمد سے وصول کیئے گئے ہیں۔ KMCگراونڈ سیکٹر 5B-03/5B-04 شاہراہ عثمان نیو کراچی، کیٹل منڈی ایف سی ایریا، ٹنکی گراونڈ لیاقت آباد، ضلع کیماڑی میں مویشی منڈی،بکرا پیڑی لیاری کو 10 لاکھ روپے فیس اور 30 لاکھ روپے ایڈوانس لینے کی اطلاعات ہیں۔ اس منڈی کی چیئرمین لیاری ٹاون نگرانی کریں گے۔ کیٹل منڈی گراونڈ سیکٹر 9 اسٹیڈیم روڈ بلدیہ ٹاون، ضلع شرقی میں سفاری پارک گلستان جوہر KMC گراونڈ، اتوار بازار گلشن اقبال سے بھی 30 لاکھ روپے ایڈوانس وصول کیئے گئے ہیں اور کیٹل منڈی میں محکمہ موسمیات بلاک 5/6 اسکیم 33۔کیٹل منڈی سیکٹر 51، ون بی گراونڈ سومرو روڈ اسکیم 33۔ضلع کورنگی میں کیٹل منڈی آر آر گراونڈ الحمزہ لانڈھی، کیٹل منڈی کورنگی کراسنگ سے 30 لاکھ روپے اجازت نامہ جاری کرنے کے وصول کیئے گئے ہیں اسی طرح ضلع غربی میں کیٹل منڈی جرمن اسکول گراونڈ شاہراہ قذافی سیکٹر 14, 1/2 اورنگی ٹاون، کلفٹن بچت بازار پر لگنے والی بکرا منڈی بھی 50 ںلاکھ روپے میں فروخت ہو چکی ہے۔ ذوالفقار سے سفاری اور کورنگی کراسنگ کا منڈی دینے کے لیئے ایڈوانس ادائیگی کردی گئی ہے۔ کامران منڈی کے لئے گلستان جوہر کے نام پر 30 لاکھ روپے ایڈوانس دیا گیا ہے، اورنگی ٹاون کی صابری چوک پر منڈی کی اجازت نامہ کے لیئے ذولفقار عباسی سے 30 لاکھ روپے وصول کرنے کی اطلاعات ہیں۔ افتخار احمد ڈائریکٹر وٹرنری گریڈ 17 کے افسر کو گریڈ 19 میں تعینات ہے اور انہیں 2 مارچ 2024ء سے تقرری دی گئی ہے۔ ہر سال عید الاضحی پر جانوروں کی منڈی میں 18 سے 20 لاکھ جانور لایا جاتا ہے، جہاں جانور پر ٹول ٹیکس، چنگی ناکہ ٹیکس، بھتہ پولیس اور دیگر ادارے وصول کرتے ہیں اور اس کاروبار میں 100سے 150 ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ مذہبی رسومات کے باوجود ہر سطع پر رشوت بھتہ کمیشن کھلے عام وصول کیا جاتا ہے۔ چوری ڈکیتی کے علاوہ لوٹ مار کا ایک الگ الگ سے سلسلہ جاری ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *