وائرل ویڈیوز کا معاملہ، دو ڈسچارج خاتون پولیس اہلکاروں کی برطرفی کی وجوہات واضح

لاڑکانہ(بولونیوز)سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں لاڑکانہ ضلع سے تعلق رکھنے والی دو ڈسچارج خاتون پولیس اہلکاروں کی نوکری سے برطرفی کے حوالے سے دیے گئے بیانات پر پولیس حکام نے وضاحت جاری کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ دونوں خاتون اہلکار سحر پیرزادو اور صبا پیرزادو مسلسل تین ماہ تک اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہیں۔ دورانِ جانچ ان کا پوائنٹ ایم لوکیشن ڈیٹا ڈیوٹی پوائنٹ سے میچ نہیں کر رہا تھا، جبکہ سی ڈی آر (CDR) لوکیشن بھی ڈیوٹی مقام پر موجودگی کی تصدیق نہ کر سکی۔

اس صورتحال پر لاڑکانہ پولیس کے سربراہ احمد چوہدری نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی عاقل کو انکوائری افسر مقرر کیا۔ انکوائری افسر نے اپنی رپورٹ میں دونوں غیر حاضر خاتون اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔

انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے بعد ایس ایس پی لاڑکانہ نے دونوں اہلکاروں کو روبرو موقف پیش کرنے کے لیے اردلی روم (O.R) میں طلب کیا، تاہم دونوں بہنیں مقررہ تاریخ کو بھی پیش نہ ہوئیں اور غیر حاضر رہیں۔

بعد ازاں پولیس رول 1221 کے تحت عوام الناس کے جان و مال کے تحفظ جیسے فرائض میں غفلت اور لاپرواہی برتنے پر دونوں خاتون اہلکاروں کو نوکری سے برطرف (ڈسچارج فرام سروس) کر دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق مذکورہ دونوں اہلکاروں نے فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی دائر کیں، تاہم ڈی آئی جی پولیس لاڑکانہ اور آئی جی سندھ نے بھی اپیلیں مسترد کر دیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محکمانہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور فرائض میں غفلت برتنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاتی رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *