Category: انٹرنیشنل نیوز

  • لبنان میں امن کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا ناگزیر قرار

    یروشلم(بولونیوز)اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون سار نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ لبنان میں ’’امن اور سلامتی‘‘ کے قیام کے لیے حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا ایک لازمی شرط ہے۔

    انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں جنوبی سوڈان کے وزیر خارجہ جیمز پٹیا مورگن سے یروشلم میں ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، جیسا کہ حالیہ دنوں میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں ایک ’’مرحلہ وار عمل‘‘ شامل ہے، جس کے تحت لبنانی فوج کو ملک بھر میں مؤثر ریاستی اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم اس عمل کی تکمیل کے لیے غیر ریاستی مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح طور پر حزب اللہ مراد ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے اس فریم ورک معاہدے کو ’’بے اثر اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ہفتے کے روز بیان دیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان میں طویل قیام کی تیاری کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

  • شدید گرمی کے باعث گاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات، دبئی پولیس کی احتیاطی ہدایات جاری

    دبئی(بولونیوز)پوری دنیا کی طرح عرب خطہ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث گاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر Dubai Police نے شہریوں اور رہائشیوں کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بلند درجہ حرارت کے دوران معمولی سی غفلت بھی گاڑی میں آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہے۔ دبئی پولیس کے مطابق موسمِ گرما میں گاڑیوں میں آتشزدگی کی عام وجوہات میں ناقص برقی وائرنگ، ایندھن یا تیل کا رساؤ، بروقت دیکھ بھال نہ کرانا، خراب بیٹری، انجن کا حد سے زیادہ گرم ہونا اور گاڑی کے اندر آتش گیر اشیا چھوڑ دینا شامل ہے۔

    پولیس نے خبردار کیا ہے کہ لائٹر، پاور بینک، ایروسول اسپرے، گیس سلنڈر اور دیگر دباؤ والے کنٹینرز بند گاڑی میں شدید گرمی کے باعث انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    دبئی پولیس نے ڈرائیوروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گاڑی کی باقاعدہ سروس کروائیں، برقی نظام کا مکمل معائنہ کرائیں اور انجن آئل، کولنٹ اور بیٹری کی حالت کو مسلسل چیک کرتے رہیں۔ مزید یہ کہ گاڑی کے اندر کسی بھی قسم کی آتش گیر یا دباؤ والی اشیا ہرگز نہ چھوڑیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنی اور دوسروں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔

  • اٹلی میں دو معصوم بچوں کی جان بچانے والے پاکستانی نوجوان نوید اسلم کے لیے سرکاری اعزاز

    اٹلی(بولونیوز) چند روز قبل اٹلی کے شہر بریشیا کے ایک پارک میں اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب ایک نائجیرین شہری نے کھیلتے ہوئے دو معصوم بچوں پر اچانک حملہ کر دیا اور ان کی گردن دبانے کی کوشش کی۔

    اس نازک صورتحال میں وہاں موجود پاکستانی نوجوان نوید اسلم نے غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور پر جھپٹ پڑے اور اسے قابو میں کر لیا۔ نوید اسلم نے پولیس کے پہنچنے تک حملہ آور کو مضبوطی سے دبوچے رکھا، جس کے دوران وہ خود بھی زخمی ہو گئے، تاہم انہوں نے بچوں کو محفوظ رکھا اور کسی بڑے سانحے کو ہونے سے بچا لیا۔

    پاکستانی نوجوان کی اس مثالی بہادری اور انسانی خدمت کے اعتراف میں بریشیا کی میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کو اپنے دفتر مدعو کیا اور انہیں خصوصی اعزازی شیلڈ پیش کی۔

    اس موقع پر گجرات سے تعلق رکھنے والے نوید اسلم کا کہنا تھا کہ بچوں کی جان بچانا ان کی انسانی ذمہ داری تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر معمولی کارنامہ انجام نہیں دیا بلکہ وہی کیا جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے کرنا چاہیے۔

    نوید اسلم کی اس جرات مندانہ کارروائی کو اٹلی سمیت پاکستان میں بھی سراہا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

  • امریکا کی ایرانی ساحلوں پر دوبارہ بمباری، ایران کےبحرین اورکویت میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

    امریکا(بولونیوز)ایرانی ساحلوں پر ایک بار پھر فضائی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے دس فوجی ٹھکانوں، میزائل اور ڈرونز کے گوداموں کے علاوہ ریڈار سسٹمز پر حملے کیے۔

    ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز کے قریب کی گئیں، جسے خطے کی ایک نہایت حساس آبی گزرگاہ قرار دیا جاتا ہے۔ حملوں کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت میں واقع امریکی ایئربیس اور بحرین میں امریکی بحری بیڑے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملے امریکی جارحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

    امریکی اور خلیجی حکام کی جانب سے تاحال نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اس تازہ کشیدگی سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

    ابھی تک دونوں جانب سے مکمل فوجی نقصانات یا مزید جوابی کارروائیوں کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم خطے میں تناؤ واضح طور پر بڑھتا جا رہا ہے۔

  • تہران کا عراق سے ایران مخالف کرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ

    تہران(بولونیوز)ایران نے عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران مخالف کرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ یہ مطالبہ تہران میں تعینات عراقی سفیر کے ذریعے باضابطہ طور پر عراقی حکومت تک پہنچایا گیا ہے۔

    نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق یہ پیغام تہران میں عراق کے سفیر یاسر الحجاج کے ذریعے دیا گیا، جس کی ایک نقل بغداد اور دوسری عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن کی حکومت کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران نے عراقی حکومت اور کردستان کی مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو ایران مخالف کرد گروہوں کے رہنماؤں اور ارکان کو ایران کے حوالے کیا جائے، یا پھر انہیں ایک مقررہ مدت کے اندر کسی تیسرے ملک منتقل کر دیا جائے۔

    تاحال عراقی حکومت، کردستان کی مقامی حکومت اور ایران مخالف کرد گروہوں کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ ایران اور عراق نے تین سال سے زائد عرصہ قبل سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک سکیورٹی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مارچ 2023 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت عراق نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی سرزمین، بالخصوص کردستان ریجن، کو مسلح گروہوں کی جانب سے ایران کی سرحدی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس معاہدے کے بعد کردستان کی مقامی حکومت نے ایران مخالف بعض کرد جماعتوں کو غیر مسلح کیمپوں میں منتقل بھی کیا تھا۔

    دوسری جانب گزشتہ روز ایران کے شہر بانہ کے نواحی علاقوں میں کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ پاسدارانِ انقلاب سے قریبی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان جھڑپوں میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔

    رپورٹس کے مطابق جھڑپوں کا ایک اہم مرکز سقز–بانہ شاہراہ پر واقع بانہ شہر کی داخلی چیک پوسٹ تھی، تاہم تاحال کسی بھی کرد جماعت نے ان واقعات پر تبصرہ نہیں کیا۔

    ادھر حزب حیات آزاد کردستان کے عسکری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے خودکش ڈرون کے ذریعے بانہ کے نواحی گاؤں شیوی کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایسے حملے دوبارہ کیے گئے تو ان کا جواب دیا جائے گا۔

  • حزب اللہ نے لبنان–اسرائیل معاہدہ مسترد کر دیا، اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان

    ایران(بولونیوز)حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے مجوزہ ’’فریم ورک معاہدے‘‘ کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ لبنان کی خودمختاری کے خلاف ہے اور اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

    ہفتے کے روز جاری بیان میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ اس معاہدے کے بجائے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل کیا جانا چاہیے، اور اسرائیلی انخلا تک مزاحمت جاری رہنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان سے انخلا کو حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کرنا ایک ’’انتہائی خطرناک تجویز‘‘ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیلی قبضے کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے اور لبنانی علاقوں کے الحاق کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

    ارنا کے مطابق شیخ نعیم قاسم نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی مفاہمتی یادداشت میں لبنان کے خلاف جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے 60 روز میں مکمل انخلا کی ضمانت دی گئی تھی، جبکہ موجودہ معاہدے میں لبنان اپنی سفارتی برتری اور مزاحمت کی طاقت کھو بیٹھا ہے۔

    انہوں نے اس معاہدے کو ’’ذلت آمیز، شرمناک اور خودمختاری سے دستبرداری‘‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حزب اللہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔

  • ایران کا امریکی فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ

    تہران(بولونیوز)ایران کی پاسدارانِ انقلاب IRGC نے اعلان کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس کے جنوبی علاقوں میں میزائل اور ڈرون تنصیبات پر حملے کیے تھے، جس کے بعد جوابی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔ تاہم ایران نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ کن امریکی اڈوں یا مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں بحرین اور آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی خدشات بڑھنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے حملے ایرانی ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے، جبکہ ایران ان حملوں کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دے رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کو اس نئی کشیدگی سے شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ہے۔

    تازہ ترین صورتحال:
    ▪️ ایران نے امریکی اہداف پر جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
    ▪️ امریکا نے ابھی تک نقصان یا ہدف بنائے گئے مقامات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔
    ▪️ آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں سیکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔
    ▪️ عالمی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں پر اس کشیدگی کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • ایران جنگ کے بعد امریکا کا بڑا فیصلہ، THAAD میزائلوں کی پیداوار میں 444 فیصد اضافے کا اعلان

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکا نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران اپنے فضائی دفاعی ذخائر میں نمایاں کمی کے بعد THAAD نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار میں غیر معمولی اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی Missile Defense Agency نے دفاعی کمپنی Lockheed Martin کو 35 ارب ڈالر تک مالیت کا سات سالہ معاہدہ دیا ہے۔ معاہدے کے تحت THAAD انٹرسیپٹر میزائلوں کی سالانہ پیداوار موجودہ سطح سے بڑھا کر تقریباً 400 میزائل کر دی جائے گی، جبکہ اس وقت سالانہ پیداوار تقریباً 96 میزائل ہے۔ یوں پیداوار میں مجموعی طور پر 444 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور جنگ کے دوران امریکی فوج نے بڑی تعداد میں THAAD انٹرسیپٹرز استعمال کیے، جس کے باعث ذخائر تیزی سے کم ہو گئے۔ صرف 2025 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران امریکا نے اسرائیل کے دفاع کے لیے 150 سے زائد THAAD میزائل داغے، جبکہ ہر ایک انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً ایک کروڑ 55 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ 2026 کی 39 روزہ جنگ کے دوران صرف THAAD نظام پر ہی تقریباً 3.5 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ میزائلوں کی قلت کے باعث امریکا کو جنوبی کوریا سے بھی THAAD سسٹمز مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنا پڑے۔

    امریکی حکام کے مطابق نئے معاہدے کا مقصد نہ صرف جنگ کے دوران ختم ہونے والے ذخائر کو دوبارہ بھرنا ہے بلکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تنازع کے دوران امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مسلسل دفاعی صلاحیت فراہم کرنا بھی ہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ THAAD میزائلوں کی تعداد میں اضافہ امریکی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنائے گا، تاہم ایران کے جدید Fattah اور Fattah-2 ہائپرسونک میزائل اب بھی امریکی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں۔

  • شمالی کوریا کے نئے جوہری جنگی بحری جہاز کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ

    شمالی کوریا(بولونیوز)جنگی بحری جہاز کی رونمائی کے بعد جزیرہ نما کوریا اور مشرقی ایشیا میں کشیدگی بڑھنے لگی ہے۔ امریکا کے امریکی ساتواں بحری بیڑا اور جنوبی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے گرد سمندری نگرانی کو انتہائی ہائی الرٹ پر کر دیا ہے۔

    یہ اقدام شمالی کوریا کی جانب سے اپنے نئے 5,000 ٹن وزنی جنگی بحری جہاز چوئے ہیون کی رونمائی کے بعد کیا گیا۔ شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ یہ جدید ڈسٹرائر ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    شمالی کوریا نے اس کے ساتھ ساتھ مزید بڑے 10,000 ٹن وزنی کروزر کلاس جنگی جہاز تیار کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور جنوبی کوریا نے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اضافی سمندری گشتی طیارے، جدید ریڈار سسٹمز اور جاسوسی اثاثے تعینات کر دیے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا جلد ہی اپنے نئے جنگی بحری جہاز کے سمندری تجربات (سی ٹرائلز) شروع کر سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا، امریکا اور جنوبی کوریا کے بحری جہازوں کے درمیان کسی بھی غیر ارادی آمنے سامنے کی صورتحال خطے میں شدید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

    امریکی اور جنوبی کوریائی حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ تاحال کسی فوجی تصادم کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتے نہایت حساس ہو سکتے ہیں۔ اگر شمالی کوریا اپنے نئے جنگی جہاز کو فعال سروس میں شامل کرتا ہے تو مشرقی ایشیا میں بحری کشیدگی اور اسلحے کی دوڑ میں مزید تیزی آنے کا خدشہ ہے۔

  • امریکا کو THAAD میزائل انٹرسیپٹرز کی خریداری پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہونے کا خدشہ

    واشنگٹن(بولونیوز)امریکا کو جدید فضائی دفاعی نظام THAAD میزائل دفاعی نظام کے صرف انٹرسیپٹر میزائل خریدنے کے لیے سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر تک خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافے پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایک THAAD انٹرسیپٹر میزائل کی قیمت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ حالیہ تنازعات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شدید اور مسلسل میزائل حملوں کے دوران یہ مہنگے انٹرسیپٹرز بہت تیزی سے استعمال ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکا نے ان کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں سستے ڈرونز اور کم لاگت میزائلوں کے مقابلے میں اتنے مہنگے انٹرسیپٹرز کا استعمال طویل مدت میں معاشی طور پر ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دفاعی حکمتِ عملی میں توازن پیدا کرنا اور کم لاگت متبادل نظاموں پر توجہ دینا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔